سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 250
سيرة النبي علي 250 جلد 3 : صلى الله بنائی ہوئی تھی جس کا کام یہ تھا کہ جو لوگ مظلوم ہوں ان کی امداد کرے۔اس میں رسول کریم ﷺ بھی شامل تھے۔وہ شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ صلى الله ابوجہل نے میرا روپیہ مارا ہوا ہے آپ مجھے اس سے حق لے دیں۔رسول کریم علی نے اسے یہ نہ کہا کہ ابو جہل میرا دشمن ہے میرے خلاف شرارتیں کرتا رہتا ہے بلکہ کہا آؤ میرے ساتھ چلو۔آپ ابو جہل کے ہاں گئے۔اُس وقت مخالفین کی شرارتیں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ جب رسول کریم نے گھر سے باہر نکلتے تو آپ پر پتھر اور مٹی پھینکتے ، بیہودہ آوازے کستے ، ہنسی اور تمسخر کرتے مگر آپ نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس آدمی کو لے کر ابوجہل کے محلہ میں گئے اور جا کر اس کے دروازے پر دستک دی۔جب ابو جہل نے دروازہ کھولا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ شخص جس کا میں اس قدر دشمن ہوں وہ یہاں کس طرح آ گیا۔اس نے پوچھا آپ کس طرح آئے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس شخص صلى الله کا روپیہ دینا ہے؟ ابو جہل نے کہاں ہاں دینا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا دے دو۔اُس پر اتنا رعب طاری ہوا کہ وہ دوڑا دوڑا گھر میں گیا اور فوراً روپیہ لا کر دے دیا۔اس کے بعد کسی نے اس سے پوچھا تم تو کہا کرتے تھے کہ محمد کو جس قدر ذلیل کیا جائے اور جتنا دکھ دیا جائے اتنا ہی اچھا ہے پھر تم نے اس سے ڈر کر روپیہ کیوں دے دیا ؟ اس نے کہا آپ لوگ جانتے نہیں میری اُس وقت یہ حالت تھی کہ گویا میرے سامنے شیر کھڑا ہے۔اگر میں نے ذرا انکار کیا تو مجھے پھاڑ ڈالے گا۔اس لئے میں ڈر گیا اور فوراً روپیہ دے دیا۔۔اب دیکھو رسول کریم ﷺ کا اشد ترین دشمن کے گھر چلے جانا اور اس سے روپیہ کا مطالبہ کرنا اسی لئے تھا کہ آپ سمجھتے تھے خدا تعالیٰ کی ذات مجھ میں جلوہ گر ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی مجھ پر حملہ کر سکے۔تیسرے موقع کی مثال یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ ایک جنگ سے واپس آ رہے