سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 228
سيرة النبي علي 228 جلد 3 صلى الله رسول کریم ﷺ ایک ملہم کی حیثیت میں حضرت مصلح موعود نے رسول کریم عہ ایک مہم کی حیثیت میں “ کے عنوان پر ایک مضمون تحریر فرمایا جو الفضل 25 اکتوبر 1930 ء کے شمارہ میں شائع ہوا۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔’ہر انسان جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس کی کئی حیثیتیں ہوتی ہیں۔مثلاً ایک نبی کی ، ایک رسول کی ، ایک ملہم کی ، ایک مامور کی ، ایک آمر کی ، ایک معلم کی اور ایک مربی کی۔ہر ایک حیثیت اپنی ذات میں ایک قیمتی جو ہر اور دلفریب چیز ہوتی ہے جسے دیکھ کر انسان بے اختیار ہو جاتا ہے اور اس کا دل اس اقرار پر مجبور ہوتا ہے کہ اس کے تمام افعال کسی زبر دست طاقت کے تصرف کے ماتحت ہیں۔میں اس وقت رسول کریم ع کے ملہم ہونے کی حیثیت کو لیتا ہوں کہ اس میں بھی آپ نہ صرف دوسری دنیا سے بلکہ سب نبیوں سے بڑھے ہوئے تھے۔ملہم ہونے کی حیثیت میں جس چیز کو ہمیں دیکھنا چاہئے وہ نبی پر نازل ہونے والا کلام ہے۔اس کلام کی حیثیت کے مطابق ہم نبی کی شان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔کیونکہ کلام اسی قدر طاقتیں اپنے ساتھ لے کر آتا ہے جس قدر کام کی اس سے امید کی جاتی ہے۔اگر یہ صحیح ہے کہ نبی کا ہتھیار اس کا کلام ہوتا ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ضرورت کے مطابق ہی ہتھیا را سے دیا جائے گا۔اگر بڑے دشمن کا مقابلہ ہے اور بہت بڑی فتوحات اس کے ذمہ لگائی گئی ہیں تو یقیناً بہت کاری ہتھیارا سے دینا ہوگا تا کہ وہ اپنا کام کر سکے۔لیکن تعجب ہے کہ دنیا نے اس صاف اور سیدھی صداقت کو نہیں سمجھا اور کئی بے وقوف کہہ دیا کرتے ہیں