سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 217
سيرة النبي علي 217 جلد 3 رسول کریم ﷺ کی ذات جزو قرآن ہے 29 دسمبر 1929ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر فضائل القرآن“ کے عنوان سے حضرت مصلح موعود نے جو تقریر فرمائی اس میں سیرت نبوی کا درج ذیل پہلو بھی بیان فرمایا :۔میں رسول کریم ﷺ کو قرآن کریم سے باہر نہیں سمجھتا۔آپ بھی قرآن کا جزو ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَلَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْاَمِيْنُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ 1- یعنی یہ قرآن يقينا رب العالمین خدا کی طرف سے اتارا گیا ہے۔یہ قرآن رُوحُ الامین لے کر تیرے دل پر نازل ہوا ہے تا کہ تو انذار کرنے والوں کی مقدس جماعت میں شامل ہو جائے۔پس ایک قرآن لفظوں میں نازل ہوا ہے اور ایک قرآن رسول کریم علی صلى الله کے قلب مطہر پر نازل ہوا ہے۔اس وجہ سے رسول کریم ﷺ پر کوئی حملہ در حقیقت قرآن کریم پر ہی حملہ ہو گا۔“ 1: الشعراء: 193 تا 195 ( فضائل القرآن نمبر 2 صفحہ 34 ناشر الشركة الاسلامیہ ربوہ 1963ء)