سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 213

سيرة النبي علي 213 جلد 3 رسول کریم ﷺ کی قوت یقین حضرت مصلح موعود 4 اکتوبر 1929 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔پس یاد رکھو یقین اور ایمان کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔دنیا میں تعداد سے اتنا کام نہیں نکلتا جتنا جراتِ ایمانی سے۔مؤمن جس وقت خدا پر یقین رکھتے ہوئے مستانہ وار لکھتا ہے تو لوگوں کی آنکھیں خود بخود اس کے آگے جھکتی چلی جاتی ہیں۔جنگ حنین میں رسول کریم عملے کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے اور مقابل پر چار ہزار تیرانداز تھے۔لیکن آپ الله صد الله صلى الله انا النبي لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب کہتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔اُس وقت کیا چیز تھی جو کفار کو اس بات سے رو کے ہوئے تھی کہ بڑھ کر آپ کے گرد حلقہ کر کے گرفتار کر لیتے ، کیوں اُن کی تلوار میں میانوں سے نہیں نکلتی تھیں؟ وہ رسول کریم ﷺ کا یہی یقین اور وثوق تھا کہ خدا میرا مددگار ہے اور وہ مجھے نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔جس طرح ایک اثر دہا کے سامنے پرندہ مسحور ہو جاتا ہے اور کچھ نہیں کر سکتا اسی طرح وہ لوگ بھی مسحور تھے۔پس اپنے اندر ایمان پیدا کرو، اسلام پیدا کرو اور یقین پیدا کرو پھر میں ضامن ہوں کہ دنیا کی کوئی قوم تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔جب تک کسی کے اندر ایمان نہ ہو اُسی وقت تک وہ بزدل ہوتا ہے لیکن جس (الفضل 11 اکتوبر 1929ء) 66 کے ساتھ خدا ہو اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔“ 1 بخاری کتاب المغازى باب قول الله تعالى و يوم حنين اذ اعجبتكم صفحہ 729 حدیث نمبر 2864 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية