سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 203

سيرة النبي علي 203 جلد 3 بھاگ آئے ہیں۔بادشاہ منصف مزاج تھا اس نے مسلمانوں کو بلایا اور دریافت کیا آپ لوگوں پر کیا الزام ہے؟ انہوں نے جواب دیا اے بادشاہ! ہمارا قصور اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہم لوگ چوری کیا کرتے تھے ، بدکاری میں مبتلا تھے، شرک کے گناہ سے ملوث تھے، ہر قسم کا دعا فریب کرتے تھے کہ خدا کا ایک برگزیدہ پیدا ہوا اس نے ہمیں ان باتوں سے روکا۔ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہا اور یہ سب برائیاں چھوڑ دیں بس یہی ہمارا قصور ہے۔یہ تقریر ایسے رقت بھرے الفاظ میں کی گئی کہ بادشاہ اور در باری سب رو پڑے اور بادشاہ نے انہیں واپس دینے سے انکار کر دیا۔جب اس طرح بھی اہل مکہ کو نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا تو عمرو بن عاص نے اپنے ساتھی سے کہا اب میں درباریوں کو ان کے خلاف اکساتا ہوں۔چنانچہ اس نے درباریوں کو تحفے تحائف دے کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ بادشاہ کو یہ کہہ کر مخالف بنائیں کہ یہ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں۔بادشاہ عیسائی تھا اسے اس طرح اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔دوسرے دن درباریوں نے بادشاہ سے کہا اے بادشاہ! یہ لوگ نہ صرف مکہ والوں کے دشمن ہیں بلکہ تمہارے بھی دشمن ہیں کیونکہ یہ حضرت عیسیٰ کی توہین کرتے ہیں۔بادشاہ نے پھر مسلمان مہاجرین کو بلایا اور اس بارے میں دریافت کیا۔انہوں نے کہا ہم لوگ حضرت عیسی کو خدا کا نبی مانتے ہیں اور دل سے ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ہاں ہم انہیں خدا کا بیٹا نہیں مانتے اور سورۃ مریم کی آیات سنائیں۔بادشاہ نے ان کا جواب سن کر ایک تنکا اٹھایا اور خدا کی قسم کھا کر کہا میں بھی حضرت عیسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ اس تنکے کے برابر بھی نہیں سمجھتا۔در باری یہ سن کر بادشاہ کے خلاف سخت برافروختہ ہو گئے مگر بادشاہ نے انہیں وہ واقعہ یا د دلا یا جب کہ وہ اس کے باپ کی وفات پر اسے قتل کر کے اس کے چا کو بادشاہ بنانا چاہتے تھے 2۔مگر خدا نے کچھ ایسے سامان کر دیئے کہ بادشاہت اسے مل گئی۔بادشاہ نے کہا کہ تم لوگوں کا مجھ پر کچھ احسان نہیں یہ خدا کا مجھ پر احسان ہے۔بادشاہت کے