سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 190

سيرة النبي متر 190 جلد 3 چھوڑتے۔حالانکہ ہندوؤں ، عیسائیوں، یہودیوں میں سے 99 فیصدی ایسے ہیں جو اپنے مذہب کو سچا سمجھ کر مانتے ہیں۔اسی طرح عیسائیوں کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ ان میں ایسے لوگ ہیں جو خدا کا ذکر سن کر رونے لگ جاتے ہیں، خشیت سے ان کے دل بھر جاتے ہیں۔کیا ایسے لوگ اپنے مذہب کو فریب سے ماننے والے ہو سکتے ہیں؟ یہ تعلیم دے کر رسول کریم نے دیگر مذاہب کے لوگوں کے احساسات کا ادب اور احترام کرنا سکھایا ہے۔تیسری تعلیم رسول کریم ﷺ نے یہ دی ہے کہ آپ نے حکم دیا سب قوموں کے متعلق تسلیم کرو کہ ان میں انبیاء آئے۔اس بات پر اجمالی طور پر ایمان لاؤ کہ سب اقوام میں نبی آئے۔اس طرح آپ نے انٹرنیشنل لاء(International Law ) کو مذہب میں جاری کر دیا۔گزشتہ جنگ کے دوران میں روس کی حکومت میں تبدیلی ہو گئی جس پر باقی حکومتیں اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتیں۔روسی اس کے لئے منتیں کرتے ہیں مگر ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔بعض لوگ کہیں گے دوسری حکومتوں کے تسلیم کر لینے سے کیا فائدہ ہوتا ہے کہ روسی اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔بات یہ ہے اس میں بہت بڑے فائدے ہوتے ہیں۔جس حکومت کو دوسری حکومتیں تسلیم کر لیں اسے بین الاقوامی قانون کے فوائد حاصل ہونے لگ جاتے ہیں۔رسول کریم ﷺ وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے تمام مذاہب کے حقوق کو تسلیم کیا اور یہ قرار دیا کہ سب مذاہب خدا کی طرف سے ہیں۔ان مذاہب کی غلط باتوں سے اختلاف بھی کیا، ان کا مقابلہ بھی کیا مگر ان کے ماننے والوں کے احساسات کا احترام کیا اور ان کے حقوق قائم کئے۔یہ بہت بڑا حق تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو دیا۔چوتھی تعلیم آپ نے یہ دی کہ جب کسی قسم کی بحث ہو تو گالیوں پر نہ اتر آؤ۔چنانچہ آتا ہے لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ 8 جب دوسری قوموں سے جھگڑا ہو تو وہ ہستیاں جنہیں تم نہیں مانتے ، خواہ