سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 189
سيرة النبي علي 189 جلد 3 اب میں مضمون کا دوسرا حصہ بیان کرتا ہوں جو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری قوموں سے کیا سلوک کیا اور ان کے متعلق کیا تعلیم دی۔رسول کریم ہے نے نہایت واضح طور پر یہ تعلیم دی ہے کہ کسی کی خوبی کا انکار نہیں کرنا چاہئے اور یہ بھی کہ ہر مذہب میں کچھ نہ کچھ خوبیاں ہیں جن کا انکار کرنا ظلم ہے۔چنانچہ قرآن میں آتا ہے وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصْرُى عَلَى شَيْ وَقَالَتِ النَّصْرِى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الكتب 7 فرمایا کیسے ظلم کی بات ہے، عیسائی کہتے ہیں یہودیوں میں کوئی خوبی نہیں اور یہودی کہتے ہیں عیسائیوں میں کوئی خوبی نہیں حالانکہ دونوں ایک ہی کتاب پڑھنے والے ہیں۔کیا اس میں کوئی بھی خوبی نہیں۔تو رسول کریم ﷺ نے یہ تعلیم دی کہ دوسروں کی خوبی کو تسلیم کرنا چاہئے۔جو شخص کہتا ہے کہ دوسرے مذاہب میں کوئی خوبی نہیں وہ غلطی کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے یہ ایسی اعلیٰ تعلیم دی ہے کہ اس کے ذریعہ تمام اقوام کے دل رکھ لئے ہیں۔کسی کے مذہب کے متعلق یہ کہنا کہ اس میں کوئی بھی خوبی نہیں اس مذہب کے پیروؤں کے لئے الله بہت تکلیف دہ بات ہے۔اس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے یہ اصل پیش کیا ہے کہ ہر قوم کی خوبی تسلیم کرو۔اس طرح آپ نے تمام قوموں پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔دوم :۔آپ نے فرمایا کسی مذہب کے افراد کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ اپنے مذہب کو فریب سے مانتے ہیں۔باوجود اس کے کہ پہلے مذاہب بگڑ چکے ہیں تاہم ان کے ماننے والوں میں سے اکثر انہیں دل سے سچا سمجھتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں بعض یہود اور نصاریٰ کی تعریف آئی ہے۔یہودیوں کے متعلق آتا ہے ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر انہیں پہاڑ کے برابر بھی سونا دے دو تو وہ اس میں خیانت نہ کریں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے یہودیوں میں ایسے لوگ تھے جو اپنے مذہب کو سچا سمجھ کر مانتے تھے۔آج کل مسلمانوں میں بھی یہ نقص پیدا ہو گیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں دیگر مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذاہب کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور باوجود اس کے ان کو نہیں