سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 146
سيرة النبي علي 146 جلد 3 صلى الله رسول کریم ﷺ ایک انسان کی حیثیت میں الفضل نے 31 مئی 1929ء کو خاتم النبین نمبر نکالا۔اس میں جماعت کے بزرگوں کے علاوہ غیر احمدی اکابر اور غیر مسلموں نے بھی رسول کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر قابل قدر مضامین لکھے۔حضرت مصلح موعود نے بھی اس نمبر کے لئے مندرجہ ذیل مضمون لکھا:۔أعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ بظاہر یہ ایک عجیب نبوت، کمالات انسانی میں سے ایک کمال ہے بات معلوم دیتی ہے کہ وہ شخص جسے انبیاء کے سردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اسے ایک انسان کی حیثیت میں بھی پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔لیکن حق یہ ہے کہ باوجود نبوت کے دعویٰ کے کوئی شخص اس بات سے بالا نہیں ہو سکتا کہ اس کی انسانیت پر بحث کی جائے کیونکہ نبوت کمالات انسانی میں سے ایک کمال ہے اور انسانیت ہی کے کمالات کے ظہور کے لئے اس کا وجود پیدا کیا گیا ہے۔میرے نزدیک یوں سمجھنا چاہئے کہ نبوت ایک بارش ہے جو فطرت انسانی کی مخفی طاقتوں کو ابھار کر باہر نکال دیتی ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ جس زمین پر وہ بارش خدا تعالیٰ کے انتخاب کے ماتحت نازل ہوگی وہ زمین اس بارش کے اثر کو