سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 120

سيرة النبي عمال 120 جلد 3 ہوتی ہے۔جب یورپ میں جنگ عظیم جاری تھی تو ایک موقع پر فریقین نے انتہائی زور صرف کر دیا کیونکہ ہر ایک چاہتا تھا کہ اس سال لڑائی کا خاتمہ ہو جائے اس کے لئے بڑا سامان جمع کیا گیا اور ہر فر د جو بھی مل سکتا تھا اسے میدان جنگ میں لایا گیا۔نہایت زبر دست جنگ شروع ہوئی۔اُس وقت انگلستان کی جنگی کمیٹی کو تار پہنچا کہ اس وقت ہماری یہ حالت ہے کہ ہم دیوار سے پیٹھ لگا کر لڑ رہے ہیں اگر اس وقت ہم ذرا بھی ہل گئے تو کہیں ہمارا ٹھکانا نہ رہے گا۔اُس وقت کیبنٹ میٹنگ ہو رہی تھی اور مشورہ کیا جا رہا تھا کہ لڑائی کے لئے کیا کیا سامان جمع کیا جائے اور کہاں کہاں بھیجا جائے کہ یہ تار پہنچا۔لائڈ جارج اُس وقت وزیر اعظم تھے وہ تار لے کر کھڑے ہو گئے اور سب کو مخاطب کر کے کہنے لگے یہ تار آیا ہے اب باتوں کا وقت نہیں رہا اور اب وہ ایک ہی طریق اختیار کریں جو باقی رہ گیا ہے اور جس کے بغیر اور کوئی طریق نہیں ہے اور وہ یہ کہ خدا کے آگے جھک جائیں اور اس سے دعا کریں کہ ہم کامیاب ہوں۔یہ کہہ کر سب کے سب جھک کر دعا کرنے لگ گئے۔یہ اس قوم کی حالت ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے خدا کو چھوڑ دیا، جو مذہب ترک کر چکی ہے اور جو حقیقت مذہب سے ایسی ہی نا واقف ہے جیسے جانور فلسفہ سے ناواقف ہوتا ہے۔یہ سب کچھ صحیح مگر باوجود اس کے اس میں ایک چیز قائم ہے اور وہ مذہب کا ادب ہے۔باوجود اس کے کہ ان کا مذہب ان کی تسلی نہیں کر سکتا اور باوجود اس کے کہ ان کی دعاؤں میں قبولیت کا رنگ نہیں ہوتا وہ خدا کی بتلائی ہوئی دعائیں نہیں کرتے بلکہ اپنی عقل سے بنائی ہوئی کرتے ہیں مگر پھر بھی ان میں اپنے مذہب کا ادب اور احترام پایا جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ مذہبی باتوں پر ٹھٹھا کرتے ہیں اور ان پر عمل کرنے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔یہودی مذہب کی حقیقت سے کس قدر دور ہو چکے ہیں لیکن باوجود اس کے میں نے ان کو دیکھا ہے دعائیں کرتے وقت عملاً ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔آج تک جب کبھی