سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 116
سيرة النبي علي 116 جلد 3 یہ وہ تعلیم ہے جو رسول کریم ﷺ نے پیش کی اسے کون غلط کہہ سکتا ہے۔مذہب کی غرض خدا تعالیٰ سے ملنا ہے اور جو خدا تعالیٰ کی طرف چل پڑے وہ غلط رستہ پر کہاں جا سکتا ہے۔تو اَدْعُوا اِلَی اللہ میں یہ بتایا کہ مذہب کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے انسان کو چاہئے کہ اس میں زندگی بسر کرے۔یہ بہت اعلیٰ طریق ہے مگر اس میں ایک کمی رہ جاتی ہے اس کی طرف آیت کے اگلے حصہ میں توجہ دلائی گئی ہے۔محبت بے شک اچھی چیز ہے مگر یہ ایسی چیز ہے کہ اس میں ٹھو کر بھی لگ سکتی ہے۔بہت لوگ محبت کی وجہ سے حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔پس خالی محبت مفید نہیں ہو سکتی محبت اور حقیقت مل کر کام آتی ہے۔مثلاً اگر کسی کا بچہ پہاڑ پر سے گر پڑے تو بجائے اس کے کہ سوچ کر نیچے اترے اگر وہ محض محبت کے جوش میں پہاڑ سے کود پڑے گا تو ہوسکتا ہے کہ بچہ تو صحیح سلامت نیچے کھڑا ہو اور وہ مرجائے تو فرمایا اَدْعُوا اِلَی اللہ میں خدا سے محبت کرتا ہوں اور اس کی طرف بلاتا ہوں مگر میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کہتے ہیں بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے اسے مان لو بلکہ میں یہ کہتا ہوں عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي مِیں اور میرے پیچھے چلنے والے ایسے ہیں کہ انتہا درجہ کی محبت میں بھی ان کی عقلیں نہیں ماری جاتیں بلکہ قائم رہتی ہیں کیونکہ میری تعلیم کی بنیاد عقل اور دلیل پر قائم ہے۔نیک نیست بے شک قابل قدر چیز ہے لیکن جب عقل کے خلاف ہو تو نقصان پہنچاتی ہے۔اگر ایک شخص زہر کو تریاق سمجھ کر کھا لے تو وہ اپنی نیت کے اچھے ہونے کی وجہ سے بچ نہیں سکے گا۔یا لوگ کشتے تیار کرتے ہیں اگر کوئی زہر کا کشتہ کسی کے لئے بڑی محبت اور اخلاص سے تیار کرے مگر وہ زہر کا اثر زائل کرنا نہ جانتا ہو تو اس کی محبت اور نیک نیتی کی وجہ سے وہ کشتہ کے زہر سے بچ نہیں سکے گا کیونکہ وہ عقل کے ماتحت تیار نہ ہوا ہو گا۔تو اَدْعُوا الی اللہ میں بتایا کہ اسلام کی نبیاد محبت پر ہے مگر ساتھ ہی اسلام عقل کو بھی نہیں چھوڑتا اس لئے میں بھی عقل پر قائم ہوں اور میرے متبع بھی۔پھر فرمایا وَ سُبْحْنَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔یہ پہلی دونوں باتوں کی