سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 2
سيرة النبي عمال 2 جلد 3 الله واقعات نہیں جو اس نے بیان کئے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ حیران کن ہیں۔دنیا کو فتح کرنے کی صاف پیشگوئی اس احزاب کی جنگ کے وقت کی گئی جب کہ بوجہ محاصرہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ کو کئی دن سے فاقہ تھا۔کئی صحابہ نے بتایا کہ انہیں سات سات دن سے فاقہ تھا اور انہوں نے اپنے پیٹوں پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔رسول کریم ﷺ نے بھی فاقہ کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا1۔یہ حالت تھی جب صحابہ خندق کھودرہے تھے۔دشمن پورے زور سے ان پر حملہ آور ہو رہا تھا اور دعویٰ کر رہا تھا کہ مسلمانوں کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور لونڈیاں بنا کر لے جائے گا اور ان کو تباہ و برباد کر دے گا۔جس وقت دشمن یہ دعویٰ کر رہا تھا خندق کھودتے ہوئے ایک ایسا پتھر نکلا جسے صحابہ نے توڑنا چاہا مگر باوجو د سخت کوشش کے وہ نہ ٹوٹا۔آخر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ ایک پتھر بہت سخت نکلا ہے جو ہم سے ٹوٹتا صلى الله نہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا چلو ہم توڑتے ہیں۔آپ ﷺ نے کدال لے کر پتھر پر ماری۔پھر سخت تھا اور جیسا کہ قاعدہ ہے کہ چوٹ پڑنے پر پتھر سے آگ نکلتی ہے آگ کا شعلہ نکلا۔رسول کریم علیہ نے اسے دیکھ کر کہا اللہ اکبر۔صحابہ کو کچھ نہ سمجھے کہ کیا مراد ہے مگر چونکہ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کا ادب ملحوظ رکھتے تھے بغیر دریافت کرنے کے انہوں نے بھی کہا اللہ اکبر۔رسول کریم ﷺ نے دوبارہ کدال ماری اور پھر اسی طرح آگ نکلی۔جسے دیکھ کر آپ نے دوبارہ اللہ اکبر کہا اور صحابہ نے بھی آپ صلى الله کی اتباع میں ایسا ہی کہا۔رسول کریم ﷺ نے سہ بارہ کدال ماری جس سے آگ نکلی۔آپ نے اللہ اکبر کہا صحابہ نے بھی یہ نعرہ لگایا۔اس ضرب سے پتھر ٹوٹ گیا۔رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے دریافت فرمایا تم نے کیوں اللہ اکبر کہا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا آپ نے جو کہا تھا اس لئے ہم نے بھی کہا۔آپ نے کیوں کہا تھا ؟ آپ نے فرمایا جب پہلا شعلہ نکلا تو مجھے دکھایا گیا کہ قیصر کی حکومت پر تبا ہی آئی ہے اور مسلمانوں کو اس پر فتح حاصل ہوئی ہے۔دوسری دفعہ جب شعلہ نکلا تو اس میں مجھے کسری کی