سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 59

سيرة النبي علي 59 جلد 2 کہ رسول کریم ﷺ کی اطاعت سے نبوت بھی حاصل ہو سکتی ہے اور یہ فضیلت صرف آپ ہی کو حاصل ہے۔حضرت موسی کی امت میں سے بھی نبی ہوئے ہیں مگر وہ ان کی صلى الله غلامی اور اتباع سے نہیں ہوئے بلکہ علیحدہ مستقل طور پر ہوئے ہیں۔لیکن رسول کریم میے کو خدا تعالیٰ نے وہ درجہ عطا کیا ہے کہ آپ کی اتباع سے نبی بن سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنا نام امتی نبی رکھا ہے بلحاظ اس کے کہ آپ دنیا کی اصلاح کے لئے آئے نبی تھے اور بلحاظ اس کے کہ آپ کو رسول کریم ﷺ کی امت میں ہونے کی وجہ سے نبوت ملی امتی تھے۔میں نہیں سمجھ سکتا اس سے رسول کریم علیہ کی کیونکر ہتک ہوتی ہے۔اس طرح تو آپ کے درجہ کے اور بھی بلند ہونے کا ثبوت ملتا ہے کیونکہ جتنا بڑا کسی کا غلام ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ بڑا اس کا آقا ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں: ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے8 تو خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو نبی بنا کر ثابت خاتم النبین کے معنی کر دیا کہ رسول کریم ﷺ شہنشاہ ہیں اور خاتم النبین صلى الله کے یہ معنی ہیں کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔چنانچہ امام بخاری کتاب المناقب میں ختم نبوت کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی پشت پر مہر تھی۔اس تشریح سے ظاہر ہے کہ ختم کے معنی مہر ہیں نہ کہ ختم کر دینے کے۔اور مہر تصدیق کے لئے ہوا کرتی ہے جس سے مُہر لگانے والے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ورنہ آخر ہونا تو کوئی فضیلت نہیں ہے۔فضیلت یہی ہے کہ جس جس نبی پر رسول کریم ﷺ کی تصدیقی مہر صلى الله لگ گئی وہ سچا ثابت ہو گیا۔جس قدر انبیاء مانے جاتے ہیں کیا اگر رسول کریم ﷺ ان کی نبوت کی تصدیق نہ کرتے تو آج مسلمان ان کو نبی مانتے ؟ ہرگز نہیں۔اس سے صلى الله معلوم ہوا کہ گزشتہ انبیاء کی نبوت کے ثبوت کے لئے ضروری ہے کہ رسول کریم علی کی تصدیقی مُہر ان پر ہو۔اسی طرح آئندہ بھی وہی نبی ہوگا جو آپ کی مہر کی تصدیق