سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 58
سيرة النبي عل الله 58 جلد 2 شامل ہو نہ کہ آپ سے الگ تو اس میں رسول کریم ﷺ کی کوئی ہتک نہیں اور اس کا آنا رسول کریم ﷺ کے آخر الانبیاء ہونے کے خلاف نہیں۔لیکن اگر کوئی ایسا نبی بھی نہیں آسکتا تو پھر رسول کریم ﷺ کی مسجد کے بعد کوئی مسجد بھی نہیں بنائی جاسکتی کیونکہ اس۔7 صلى الله حدیث میں رسول کریم علیہ نے اپنی مسجد کو آخری مسجد قرار دیا ہے۔بات اصل میں یہ ہے کہ جوں جوں کسی قوم کا حوصلہ پست ہوتا جاتا ہے وہ بڑے مدارج کا حاصل کرنا محال سمجھ کر چھوٹی چھوٹی باتوں پر گرنا شروع کر دیتی ہے لیکن انبیاء صلى الله اپنی جماعتوں کے لئے چھوٹے مقاصد قرار نہیں دیتے اور رسول کریم علیہ نے تو اپنی امت کو بہت بڑے درجہ کی طرف لے جانا چاہا ہے۔چنانچہ سورۃ فاتحہ میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ : اور دوسری جگہ اس کی تشریح کر دی ہے کہ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس کو نبی صدیق اور شہید بنایا جاتا ہے۔ایک مسلمان روز کم از کم پچاس دفعہ یہ دعا مانگتا ہے اور چونکہ اسلام سب سے اعلیٰ مذہب ہے اس لئے اس نے مسلمانوں کا مطمح نظر بھی سب سے اعلیٰ قرار دیا ہے اور یہ اسی طرح حاصل ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے غلام اس کی طرف بڑھیں۔پہلے مسلمانوں میں اس قسم کی کمزوری اور پست ہمتی نہ تھی جیسی کہ آج کل پائی جاتی ہے۔چنانچہ پہلے کئی بزرگوں نے صاف طور پر لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے اور عام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آنے والا مسیح نبی ہوگا اور رسول کریم ﷺ نے خود فرمایا ہے کہ وہ نبی ہوگا۔اب اگر رسول کریم ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے سے آپ کی ہتک ہوئی تو یہ کیوں فرماتے۔بات اصل میں یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی امت سے آپ کی اتباع میں کسی نبی کے آنے سے ہتک نہیں بلکہ عزت ہے۔اب تک رسول کریم ﷺ کی امت سے صدیق ، شہید اور صالح۔لوگ پیدا ہوتے رہے اور اب حضرت مرزا صاحب کے آنے سے یہ بھی ثابت ہو گیا الله