سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 45
سيرة النبي علي محبوب کون ہوا ؟ 45 جلد 2 اس سے تو خدا تعالیٰ پر الزام حیات مسیح کا عقیدہ رکھنے سے خدا پر الزام آتا ہے کہ جب مرے علی پیار اور محبت میں سب سے بڑھ گئے تھے تو کیوں خدا تعالیٰ نے ان سے سب سے زیادہ پیار اور محبت ظاہر نہ کی اور ان کے مقابلہ میں کیوں حضرت عیسی سے اپنی محبت اور پیار کا زیادہ ثبوت دیا۔چاہئے تو یہ تھا کہ جب محمد کے پیار میں سب سے بڑھ گئے تھے تو خدا تعالیٰ بھی انہی کے ساتھ اپنی زیادہ محبت کا ثبوت دیتا اور مشکلات کے وقت انہیں آسمان پر اٹھا لیتا۔صحابہ کے دل میں آنی طور پر یہ بات آئی بھی ہے کہ یہ انسان ایسا نہیں ہے کہ زمین پر وفات پائے۔چنانچہ جب رسول کریم ﷺ نے وفات پائی تو حضرت عمر جیسا جلیل القدر صحابی تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ جس نے یہ کہا کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔وہ تو آسمان پر گئے ہیں اور پھر آئیں گے۔اُس وقت اس کے خلاف کہنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی اور سب خاموش ہو گئے کہ اتنے میں حضرت ابو بکر آئے اور سیدھے اندر چلے گئے۔جب جا کر دیکھا کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ہیں تو باہر آ گئے اور لوگوں کو بلا کر کہا سنو ! وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ 1 که محمد نہیں تھے مگر اللہ کے رسول۔آپ سے پہلے رسول فوت ہو گئے۔اگر آپ بھی فوت ہو گئے تو کیا تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ یہ رسول ہی تو ہیں خدا نہیں۔اگر خدا ہوتے تو ہمیشہ زندہ رہتے۔پھر انہوں نے کہا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ سن لے کہ اللہ زندہ ہے کبھی نہیں مرتا۔اور جو محمد کی عبادت کرتا ہے وہ دیکھ لے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں۔اس طرح انہوں نے بتایا کہ جو یہ کہتا ہے کہ الله