سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 436
سيرة النبي الله 436 جلد 2 ,, 66 ، اب یہ گوہ کے کلام کرنے کا معجزہ ، اس میں کیا خوبی ہے جبکہ واقعات کے خلاف ہو۔یہ بہت سیدھی بات ہے۔تاریخ میں ایک شخص کا نام ”ضب“ لکھا ہے۔مگر علماء ہو۔اس کا خیال نہیں کرتے اور کہہ دیتے ہیں کہ گوہ بول پڑی۔اسی طرح وہ شخص جس کے سامنے درخت سجدہ میں گر پڑا ہو، عجوبہ کے طور پر اس کا ادب تو بڑھ سکتا ہے مگر تاریخ میں آکر اس کا وقار کم ہو جائے گا۔پس ایسی چیز پیش کرنی چاہئے جو ایک حقیقت رکھتی ہو۔اس لئے میں تاکید کرتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھانے کے لئے آپ کی قربانیاں پیش کرو۔ہماری کتابوں کے طومار کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا انجیل کا یہ فقرہ اثر کرتا ہے کہ لوگوں کے گناہوں کے لئے آیا ہوں۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام نہایت ہی اعلیٰ ہے اور آپ کی قربانیاں بے نظیر ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان قربانیوں کو قرآن کریم نے ایک لفظ میں بیان کیا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ 1 تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اس غم میں کہ لوگ کیوں مومن نہیں ہوتے۔یہ کتنی بڑی قربانی ہے۔آپ مخلوق کی نجات اور ان کو خدا تک پہنچانے کے لئے کس قدر فکرمند رہتے تھے۔آپ کی روزانہ زندگی کو جب ہم دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔جب ان واقعات کو بیان کیا جائے گا تو کوئی بھی ہو خواہ ہندو یا عیسائی، پارسی ہو یا یہودی وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ چیز ہے جو محبت پیدا کر سکتی ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات خود پڑھنے چاہئیں اور پڑھانے چاہئیں۔ایسے مضمون نہیں کہ آپ کی زلفیں ایسی تھیں اور آنکھیں ایسی تھیں بلکہ آپ کی نیکی ،آپ کا تقویٰ مخلوق کی خدمت کا جوش، دشمنوں کے سخت سے سخت رنج دہ سلوک کے باوجود ان سے نیکی اور ہمدردی۔دعا کی طرف توجہ پھر دعا اور خشیت الہی کی طرف توجہ ہو۔آنحضرت مے نے فرمايا الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ2 اور زندگی کے ہر شعبہ اور