سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 427

سيرة النبي الله 427 جلد 2 یک آواز ہو کر گورنمنٹ کو توجہ دلائیں کہ وہ قانون کو ایسا مکمل کر دے کہ آئندہ اس کی کمزوری کی وجہ سے ملک میں فتنہ پڑنے کا اندیشہ نہ رہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ خود اس کام کو کرنا نہیں چاہتی۔( گورنمنٹ نے جس ہمدردی سے ورتمان اور راجپال کے مقدموں میں کام کیا ہے وہ بتاتا ہے کہ وہ پورے طور پر ہمارے جذبات سے ہمدردی رکھتی ہے اور اس کی ان خدمات کا شکر یہ نہ ادا کرنا اول درجہ کی اخلاقی کمزوری اور کمینگی ہوگی۔اور میں اس اشتہار کے ذریعہ سے بھی اپنی اور اپنی جماعت کی طرف سے گورنمنٹ پنجاب اور صوبہ سرحدی کا اور خصوصاً سر ہیلی کا اس ہمدردی پر شکر یہ ادا کرتا ہوں جو اس موقع پر انہوں نے مسلمانوں سے ظاہر کی اور یقیناً کہ سکتا ہوں کہ ان کی حکمت عملی نے ملک کو خطرناک فسادات میں پڑنے سے بچانے میں بہت بڑی مدد دی ہے ) میرا یہ مطلب ہے کہ چونکہ یہ قانون مختلف مذاہب کے لوگوں سے تعلق رکھتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ گورنمنٹ کو مسلمان اپنے منشاء سے اطلاع دیں تا کہ اسے اپنی ذمہ داری کے ادا کرنے میں آسانی ہو اور وہ اہل ملک کی خواہش کے مطابق قانون بنا سکے۔شاید بعض لوگوں کو خیال گزرے کہ اس سے پہلے قانون کی ترمیم کے متعلق جو مطالبہ کیا جا رہا تھا میں اس میں کیوں شریک نہیں ہوا اور کیوں’ورتمان“ کے مقدمہ کے پہلے قانون کے مطابق چلانے پر میں زور دیتا رہا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ میرے نزدیک اس مقدمہ کا پہلے قانون کے مطابق ہونا ضروری تھا اور اُس وقت قانون کی تبدیلی کا مطالبہ کرنا قومی مصلحت کے خلاف تھا کیونکہ اس میں کیا شک ہے کہ اگر اس مقدمہ کے فیصلہ سے پہلے ہم قانون کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے اور کوئی قانون - پاس ہو جاتا تو اس کا یہ نتیجہ ہوتا کہ معزز جج صاحبان ورتمان“ کے مقدمہ کا فیصلہ اس قانون کے ماتحت کر دیتے اور دفعہ 153۔الف کے متعلق بحث کرنے کی ضرورت نہ رہتی اور یہ تسلیم کیا جاتا کہ کنور دلیپ سنگھ صاحب کا فیصلہ بالکل صحیح تھا حالانکہ ہم یہ