سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 426
سيرة النبي ع 426 جلد 2 کی گورنمنٹ نے اپنے قانون کے ذریعہ سے آپ کی عزت کی حفاظت کی۔میرا یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ سے اس بارہ میں مدد نہیں لینی چاہئے کیونکہ باوجود پر ہیز کے اگر مرض پیدا ہو تو علاج کرنا ہی پڑتا ہے۔لیکن میرا یہ مطلب ہے کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کے لئے گورنمنٹ کے قانون پر ہی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے کہ وہ مجرم کو نہیں روک سکتا بلکہ صرف مجرم کو سزا دیتا ہے۔اور خود تبلیغ اسلام اور شریعت کے قیام کے کام پر اس طرح زور دینا چاہئے کہ دل محبتِ رسول سے بھر جائیں اور کوئی شخص آپ کو برا سمجھنے والا باقی ہی نہ رہے۔مذکورہ بالا اہم فرض کی طرف توجہ دلانے کے بعد میں عزتِ رسول کے تحفظ کے بارہ میں ایک اور امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ گوجیسا کہ میں او پر لکھ چکا ہوں عزت رسول کریم ﷺ کا تحفظ خود ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہماری کوششوں پر منحصر ہے۔لیکن پھر بھی چونکہ بعض لوگ نصیحت کو نہیں مانتے اور جرم کے ارتکاب پر دلیر ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو روکنے کے لئے قانون کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہمیں ” مقدمہ ورتمان“ کے فیصلہ پر بے فکر نہیں ہو جانا چاہئے۔کیونکہ گو اس فیصلہ نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ دفعہ 153 - الف میں ان لوگوں کی سزا کے لئے بھی قانون مہیا کر دیا گیا ہے کہ جو مقدس ہستیوں کو گالیاں دے کر ان کے پیروؤں کا دل دُکھاتے ہیں لیکن اس قانون میں ابھی بہت سی خامیاں ہیں کہ جب تک وہ دور نہ ہوں گی ملک میں امن قائم نہ ہو سکے گا۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہمت کی کمر کس کر کھڑے ہو جائیں اور اُس وقت تک آرام نہ کریں جب تک کہ وہ خامیاں دور ہو جائیں اور ایک مکمل قانون بن جائے جس کے ڈر سے وہ شریر الطبع لوگ جو دلیل اور برہان کی قدر نہیں کرتے اپنے خبث باطن کے اظہار سے رکے رہیں اور ان آسمانِ روحانیت کے ماہتابوں پر خاک ڈالنے کی کوشش نہ کریں جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے پاک کیا اور جن کے کندھوں پر اپنے تقدس کی چادر اس نے ڈال دی۔ہمارا فرض ہے کہ