سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 402
سيرة النبي عالم 402 جلد 2 مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے وہ بھی ہندوؤں کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور یہی اس وقت ہندوؤں کی خواہش ہے۔ہم سول نافرمانی کی صورت میں رسول کریم ہے کی عزت کی حفاظت نہیں کریں گے بلکہ اپنی طاقت کو کمزور کر کے اور اپنے دشمن بڑھا کر لوگوں کو آپ کی ہتک کا اور موقع دیں گے۔سول نافرمانی کیلئے لاکھوں جیسا کہ میں بہتا آیا ہوں سول نافرمانی بغیر لاکھوں آدمیوں کی مدد کے نہیں ہو سکتی۔پس اب آدمی کہاں سے آئیں گے ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ لاکھوں آدمی سول نافرمانی کرنے والے کہاں سے آئیں گے۔کیا اپنے نو جوانوں کو جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں ہم اس کام کیلئے پیش کریں گے یا اپنے تاجروں کو یا اپنے زمینداروں کو یا اپنے پیشہ وروں کو؟ ان میں سے کسی ایک کو اس کام کے لئے پیش کرو نتیجہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک پیدا ہو گا۔طالب علم اگر اس کام کے لئے آگے بڑھے تو مسلمان جو تعلیم میں آگے ہی پیچھے ہیں اور بھی پیچھے رہ جائیں گے اور ہماری ایک نسل بالکل بے کار ہو جائے گی۔اگر تاجروں یا پیشہ وروں کو جیل خانہ بھجوایا گیا تو ہندوؤں کو اس سے اور بھی فائدہ پہنچے گا اور مسلمان اور بھی زیادہ سختی سے اقتصادی طور پر ان کے غلام بن جائیں گے اور دس مسلمان جو روٹی کھاتے ہیں وہ بھی اپنے کام سے جائیں گے۔اگر زمیندار قید خانوں میں بھیجے گئے تب بھی ہندوؤں کو عظیم الشان فائدہ پہنچے گا۔غرض بغیر لاکھوں آدمیوں کو سول نافرمانی پر لگانے سے کام نہیں چل سکتا اور اس قدر تعداد میں مسلمان اگر سول نافرمانی کے لئے تیار بھی ہو جائیں تو یقیناً مسلمانوں کی طاقت پنجاب میں بالکل ٹوٹ جائے گی اور ہم جو یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ہندوؤں کی غلامی سے آزاد ہوں تا کہ ہماری آواز میں اثر پیدا ہو اور بھی زیادہ پست حالت کو پہنچ جائیں گے اور کہیں ہمارا ٹھکانہ نہیں رہے گا۔بے شک اگر صرف شغل کرنا ہمارا مقصد ہو تو چند ہزار آدمی اس کام پر لگ کر شور