سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 399
سيرة النبي علي 399 جلد 2 اور ان جلسوں کو جو تمام اسلامی فرقوں اور سوسائٹیوں کی طرف سے مشترک طور پر ہونے والے ہیں ان میں اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہونے میں مزاحم نہ ہوں گی بلکہ مددگار اور شریک بنیں گی۔سول نافرمانی کے تباہی خیز نقصانات بحران احباب کو جو سول تا فرمانی کو اس وقت کی مشکلات کا حل سمجھتے ہیں مخلصانہ مشورہ دیتا ہوں کہ یہ خیال در حقیقت گاندھی جی کا پھیلایا ہوا ہے اور اس کے عیب و ثواب پر پوری طرح غور نہیں کیا گیا۔میرے نزدیک اگر غور کیا جائے تو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے موجودہ حالات میں سول نافرمانی سے زیادہ خطر ناک اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی اور یقیناً اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی تمدنی اور اقتصادی حالت پہلے سے بھی خراب ہو جائے گی اور عدم تعاون کے دنوں میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچایا تھا اور جس کے اثر کو وہ کئی سالوں میں جا کر بمشکل دور کر سکے ہیں اس سے بھی زیادہ اب نقصان پہنچ جائے گا۔اے بھائیو! ہمیں سوچنا چاہئے اس وقت ہمارا مقابلہ ہندوؤں سے ہے کہ اس وقت ہمارا مقصد کیا ہے اور پھر اس کے مطابق ہمیں علاج کرنا چاہئے کیونکہ دانا وہی ہوتا ہے جو تشخیص کے بعد مرض کا علاج شروع کرتا ہے۔اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارا اس وقت مقصد یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی جو ہتک کی جاتی ہے اس کا سد باب کریں اور آپ کی عزت کی حفاظت کا مقدس فرض جو ہم پر عائد ہے اس کو بجالائیں؟ اگر میرا یہ خیال درست ہے تو کیا پھر پہلی بات کی طرح یہ بھی سچ نہیں ہے کہ یہ ہتک ہندوؤں کی طرف سے کی جا رہی ہے نہ کہ گورنمنٹ کی طرف سے؟ پس ہما را مقابلہ ہندوؤں سے ہے نہ کہ گورنمنٹ سے۔گورنمنٹ تو اس وقت حتی الوسع ہماری مدد پر کھڑی ہے اور ہمیں ان اخلاقی ذمہ داریوں کے ماتحت جو اسلام نے ہم پر عائد کی ہیں ان کا شکر یہ ادا کرنا