سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 372
سيرة النبي علي 372 جلد 2 کہا گیا۔مسلمان اگر شور مچا رہے ہیں تو اس لئے کہ ان کے سینوں پر زخم لگے ہوئے ہیں اور دوسرے اگر خاموش ہیں تو اس لئے کہ انہیں کوئی زخم نہیں لگا۔پس یہ ان کے وسیع الحوصلہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا بلکہ ان کی خود غرضی کا ثبوت ہے۔وہ دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت حملہ مسلمانوں پر ہو رہا ہے۔ورنہ اگر یہی حملہ ان کے مذاہب کے بانیوں اور ان کے بزرگوں پر ہوتا تو میں پوچھتا ہوں وہ شور مچاتے یا نہیں؟ موجودہ حالت میں اس طرح وسعت حوصلہ ثابت کرنا یا یہ کہنا کہ ان کے بزرگوں پر حملہ نہیں کیا جا سکتا غلط ہے۔اس وقت مسلمانوں کے شور مچانے کی دو وجہیں ہیں۔اول تو یہ کہ ان پر حملہ کیا گیا ہے اور جس پر حملہ کیا جاتا ہے وہ شور مچاتا ہے۔دیکھو! میں نے نہایت تہذیب اور متانت کے ساتھ مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ ہندو چھ سو سال سے اور اُس وقت سے جب کہ وہ ہمارے غلام تھے، ہمارے درباروں میں ہمارے آگے سجدے کیا کرتے تھے ہم سے چھوت چھات کر رہے ہیں، ہمارے ہاتھ کی چیز کھانا گناہ سمجھتے ہیں۔تو آج جب کہ مسلمان ہندوؤں کی اس چھوت چھات کی وجہ سے تباہی کے کنارے پہنچ چکے ہیں ان کو بھی چاہئے کہ کھانے پینے کی چیزیں مسلمانوں سے خریدیں ، ہندوؤں سے نہ خریدیں اور جس طرح ہندوان کے ہاتھ کی چیزیں نہیں کھاتے وہ بھی ہندوؤں کے ہاتھ کی نہ کھائیں۔اس پر ہندو ایسے سیخ پا ہو رہے ہیں کہ جس ہندو اخبار کو اٹھاؤ اس میں یہی رونا رویا گیا ہے کہ قادیانی لوگ ہندوؤں سے چھوت چھات کرنے کی تلقین کر کے فتنہ پھیلا رہے ہیں اور امام جماعت احمد یہ اس طرح شرارت کر رہا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ شرارت ہے تو کیا تمہارے رشیوں، منیوں اور تمہارے باپ دادوں نے مسلمانوں سے چھوت چھات کرنے کا حکم دے کر یہی شرارت نہیں کی؟ پھر اب تم کیوں ناراض ہوتے ہو؟ اگر مسلمانوں کا بدلے کے طور پر ہندوؤں کے ہاتھ کی چیزیں نہ کھانا شرارت ہے تو پھر تمہارا کیا حال ہے جو چھ سوسال سے مسلمانوں کے ہاتھ کی چیزیں کھانے سے پر ہیز کر رہے ہو۔