سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 371
سيرة النبي علي 371 جلد 2 پیروؤں میں جوش اور غصہ پیدا ہوگا۔ورنہ جن کے مذہب کے بانیوں کو گالیاں نہیں دی جاتیں ان میں جوش اور غصہ کیوں پیدا ہو۔پس یہ کہنا کہ مسلمانوں میں کیوں جوش پیدا ہوا ہے اس کی وجہ یہ وجہ یہ ہے کہ رنگیلا رسول، ورتمان اور و چتر جیون کتابیں مسلمانوں ہی کے خلاف لکھی گئی ہیں۔ہندوؤں یا عیسائیوں یا آریوں کے خلاف نہیں لکھی گئیں۔اگر اسی قسم کی کتابیں ہندوؤں اور آریوں کے خلاف لکھی جاتیں اور اسی طرح پے در پے لکھی جاتیں تو ان میں ایسا جوش پیدا ہوتا جس کا مٹانا مشکل ہو جاتا۔مگر اب زخم مسلمانوں کو لگا ہے، سینے مسلمانوں کے فگار ہیں ہندوؤں کو کیا ہوا ہے کہ وہ شور مچائیں۔الله پس اس وقت مسلمان جو شور مچارہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ مسلمان اس بات سے ڈرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پر اعتراض ہو سکتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کو ہندوؤں کی طرف سے گالیاں دی گئیں اور آپ کی ہتک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن ہندوؤں کے بزرگوں کے خلاف مسلمانوں نے کچھ نہیں لکھا اور نہ گالیاں دی ہیں۔ایسی حالت میں ہندوؤں کا مسلمانوں کے متعلق یہ کہنا کہ وہ شور کیوں مچاتے ہیں ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی کو گالیاں دے اور جب وہ اسے کہے کیوں گالیاں دیتے ہو یہ شرافت کا فعل نہیں تو گالیاں دینے والا کہے دیکھو! میں تمہیں گالیاں دینے سے منع نہیں کرتا پھر تم کیوں منع کرتے ہو۔ہندوؤں کے اس وقت خاموش رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ بڑے وسیع الحوصلہ ہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندومسلمانوں کے خلاف نہایت کمینے اور گندے فعل جاری رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں اور ان میں شرافت اور انسانیت نہیں رہی۔یہ اصرار ان کا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کی بدکاری پر ناراض ہو تو بدکاری کرنے والا کہے تم ناراض کیوں ہوتے ہو تم بھی کر لو۔کیا ایسے شخص کو وسیع الحوصلہ کہا جائے گا؟ اس وقت مسلمانوں میں اس لئے جوش ہے کہ ان کے نبی کو برا کہا جاتا ہے اور دوسرے خاموش ہیں تو اس لئے کہ ان کے بزرگوں کو برا نہیں