سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 368

سيرة النبي الله 368 جلد 2 اس وقت میں اپنی جماعت کو جو یہاں رہتی ہے اس خطبہ کے ذریعے اور جو باہر رہتی ہے اسے خطبہ کے چھپنے پر آگاہ کرتا ہوں۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے ہماری جماعت کو بڑا جوش عطا کیا ہے مگر بات جب ہے کہ مستقل کام کا ارادہ کر لیا جائے۔یہ خوشی کی بات ہے کہ ایسے جوش کی حالت میں بھی ہماری جماعت آپے سے باہر نہیں ہوئی۔اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ احمدی قوم نے وہ تعلیم جذب کرنی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہندو، گورنمنٹ کو ہم سے بدظن کریں گے اور بدظن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ بعض افسر ناراض بھی ہو جائیں۔مگر ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔اگر اسلام کی خدمت کرتے ہوئے گورنمنٹ ہندوؤں کے کہنے سے قید نہیں بلکہ پھانسی پر چڑھا دے تو ہم پرواہ نہ کریں گے لیکن ہم قانون کی پابندی کریں گے اور امن قائم رکھنے کی کوشش کریں گے اور مسلمانوں سے بھی کہیں گے کہ فوری طور پر جوش میں نہ آؤ بلکہ اسلام کی خدمت کے لئے مستقل طور پر کوشش کر و۔صرف ریزولیوشن پاس کر دینے سے کچھ نہیں بنتا۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ریزولیوشن پاس کرنا اچھا نہیں۔یہ بھی مفید ہو سکتے ہیں مگر یہ کہ صرف ریزولیوشن پاس کیا جائے مفید نہیں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ کام کر کے دکھا ئیں۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس وقت وہ صحیح رستے پر چلنے کی ہمیں توفیق دے اور رسول کریم عملہ کی تعلیم پر عمل کرنے کے ایسے ذرائع بتائے کہ ہم اسلام کی 66 عظمت دنیا میں قائم کرسکیں اور مسلمانوں کی گری ہوئی حالت کو اٹھا سکیں۔“ ( الفضل 5 جولائی 1927 ء) 1: التوبة: 24 2: الاحزاب: 24