سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 367

سيرة النبي عل الله ضرورت ہے۔367 جلد 2 اس وقت جو کچھ ہوا اس میں میرے نزدیک گورنمنٹ نہیں بلکہ ہائی کورٹ کی غلطی ہے۔مگر یہ ہندوؤں کا فریب ہے کہ مسلمانوں کو گورنمنٹ کے خلاف جوش دلا رہے ہیں تا کہ مسلمان گورنمنٹ سے لڑ کر تباہ ہو جائیں اور پھر حکومت ہندوؤں کے ہاتھ میں آجائے۔یہ ہندوؤں کا فریب ایسا ہی ہے جیسا ایک زمیندار نے سید ، مولوی اور ایک عام آدمی ان تینوں کے ساتھ کیا تھا۔ہندو چاہتے ہیں کہ پہلے مسلمانوں کو گورنمنٹ سے لڑوائیں اور اس طرح تمام مسلمانوں کو تباہ کر دیں۔پھرا کیلے رہ کر گورنمنٹ کا مقابلہ کریں۔اب گورنمنٹ بھی بیوقوف ہو گی اگر وہ اس دھو کے میں آ جائے اور مسلمان بھی بیوقوف ہوں گے اگر وہ یہ دھوکا کھا جائیں۔مسلمانوں میں سے جو لوگ عقلمند ہیں انہیں فکر ہونی چاہئے کہ ہندوؤں کے اس جال کو توڑ دیں۔اسی طرح انگریزوں میں سے جو عقلمند ہیں انہیں چاہئے کہ ہندو نوازی کو ترک کریں۔گورنمنٹ محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں سے صلح نہ رکھے اور مسلمان محفوظ نہیں ہو سکتے جب تک گورنمنٹ سے صلح نہ رکھیں۔ہندوستان کے وہ افسر جو مینڈک کی طرح وسیع نظر نہیں رکھتے انگریزی قوم کے دشمن ہیں اور وہ مسلمان جو اپنے عارضی فوائد کی خاطر مسلمانوں کے مستقل فوائد کو قربان کر رہے ہیں مسلمانوں کے اصل قائم مقام نہیں ہیں۔اس وقت میں مسلمانوں کو سب سے بڑی نصیحت یہی کروں گا کہ حکومت کا مقابلہ نہ کریں اس کا نتیجہ اچھا نہ ہو گا۔پہلے ہندو، مسلمان دونوں مل کر گورنمنٹ کا مقابلہ کر چکے اور اس کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں۔پھر اکیلی مسلمان قوم گورنمنٹ اور ہندوؤں کے مقابلے میں کیا کر سکتی ہے۔چونکہ اب نہایت نازک وقت ہے اس لئے مسلمانوں کو عقل سے کام لینا اور اپنے نفس کو قابو میں رکھنا چاہئے ورنہ بجائے اسلام کی طاقت کا موجب بننے کے اس کی کمزوری کا باعث بن جائیں گے اور بجائے خدا تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کے اس کی ناراضگی کے مورد ہو جائیں گے۔