سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 356

سيرة النبي عل الله 356 جلد 2 نکتہ چینی کی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے نز دیک طبعی تھی اس لئے ان کو آزاد کیا جائے اور جلد سے جلد کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلہ کو مستر د کرا کے مسلمانوں کی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنی بے ادبی بھی برداشت نہیں کر سکتے دلجوئی کی جائے۔کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کم سے کم پانچ چھ لاکھ مرد و عورت کے دستخط یا انگو ٹھے اس محضر نامہ پر ہوں تا کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ اس کے باہر بھی اس کا اثر ہو۔اور اس کا ایک طبعی اثر مسلمانوں کے دماغوں پر ایسا پڑے کہ دوسرے امور میں جدو جہد بھی ان کے لئے آسان ہو جائے۔یہ محضر نامہ ابھی سے تیار ہونا شروع ہو جانا چاہئے۔اس سے لوگوں کو کام کرنے کا موقع بھی مل جائے گا اور لوگوں پر اثر بھی اچھا ہوگا۔میرے نزدیک ایک ماہ بعد کی تاریخ رکھنی اس لئے مناسب ہے کہ تا اس عرصہ میں تمام ملک کو اس غرض کے لئے بیدار کیا جا سکے۔جلسہ جمعہ کی نماز کے بعد آسان ہوگا۔لیکن جس جگہ قانوناً جلسہ کو روک دیا جائے اس جگہ نماز جمعہ کے خطبہ میں امام ان باتوں کو بیان کر سکتا ہے اس طرح قانون کے مقابلہ کے بغیر کام ہو جائے گا۔قوم کی قربانی ضروری ہے میرے نز دیک فی الحال یہی تدابیر مناسب ہیں۔گو بہت سے لوگ اس وقت بہت جوش رکھتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ کامیابی کے لئے ساری قوم کی قربانی ضروری ہوتی ہے۔صرف چند آدمیوں کی قربانی زیادہ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔پس ہمیں سب مسلمانوں کو تیار کرنا چاہئے اور اس کے لئے بہت بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے۔جب کام شروع کیا جائے گا تب معلوم ہوگا کہ کس قدر مشکلات راستہ میں آئیں گی۔اور جن کو ناجائز فوائد کے حاصل کرنے سے روکا جائے گا کس کس طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔میں آخر میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ وہ تجاویز ہیں جو میرے ذہن میں آئی ہیں۔باقی مسلمان بھائی خود بھی غور کر لیں اور جو تجاویز بھی مفید ہوں انہیں