سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 343

سيرة النبي عالم 343 جلد 2 کے دل میں جائز طور پر منافرت کے جذبات نہیں پیدا ہونے چاہئیں اس کی سب سے بڑی ہتک ہے۔وہ اسے بے غیرتی کا اور سب سے بڑی بے غیرتی کا الزام سمجھتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔حق یہ ہے کہ ہر سچا مسلمان اپنی صلى الله ذات کے متعلق سخت کلامی کو اکثر اوقات معافی کے قابل سمجھتا ہے لیکن رسول کریم علی فِدَاهُ نَفْسِي وَ رُوحِی کے متعلق ایک ادنیٰ کلمہ گستاخی کا سن کر بھی وہ برداشت نہیں کر سکتا۔اور اگر اسے یہ معلوم ہو کہ ایسا کلمہ استعمال کرنے والا اپنی قوم کی تائید اپنے ساتھ شامل رکھتا ہے تو وہ اس قوم کو بھی نہایت ہی حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے۔پس جب ایک مسلمان یہ سنتا ہے کہ ایک فاضل حج قانون منافرت بین الاقوام کے معنے صرف لیتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف بحیثیت قوم کچھ نہ کیا جائے اور یہ کہ رسول کریم ﷺے کے خلاف کچھ کہنا باعث منافرت نہیں کہلا سکتا تو وہ اس میں اپنی ہتک سمجھتا ہے اور اپنے ایمان پر حملہ خیال کرتا ہے اور حج کی نیت اچھے ہونے یا برے ہونے کا اس میں کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر فاضل ججان ہائی کورٹ مسلمانوں کے اس احساس کو مدنظر رکھتے تو انہیں مسلم آؤٹ لگ کے مضمون کی حقیقت کو سمجھنا آسان ہو جاتا۔مگر افسوس ہے کہ انہوں نے مضمون کے مختلف پہلوؤں پر غور نہیں کیا اور یہی سمجھ لیا کہ اس میں ایک حج پر بد نیتی کا الزام لگایا گیا ہے اور ایک ایسا فیصلہ کر دیا جس سے مسلمانوں کے دل اور بھی مجروح ہو گئے ہیں اور ان کی طبائع میں اور بھی جوش پیدا ہو گیا ہے۔اور اب مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی کریں جو ان کے نزدیک صرف اسلام کی عزت کی حفاظت کے لئے جیل خانہ گئے ہیں۔اور ہر سچا مسلمان اُس وقت تک صبر نہیں کرے گا جب تک کہ وہ اس بارہ میں اپنے فرض کو ادانہ کرے۔اب ہمیں کیا کرنا چاہئے فیصلہ کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔