سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 342

سيرة النبي عمال 342 جلد 2 قائم کرنا چاہتا تھا ؟ اس سزا کے بعد تو مسلمانوں کے دل اور بھی غم وغصہ سے بھر گئے ہیں اور وہ پہلے تو صرف ایک حج کے فیصلہ کی نوعیت پر معترض تھے اب عدالت عالیہ کے بہت سے جوں کے متفقہ فیصلہ کے وہ اپنے مفاد اور منشائے قانون کے سخت خلاف سمجھ رہے ہیں۔پس بجائے فائدہ کے اس فیصلہ سے نقصان پہنچا ہے اور خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔کنور صاحب کا فیصلہ اور مسلمانوں کا جوش میں کنور صاحب کے فیصلہ کے متعلق صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک فاضل جوں نے اس امر کو نہیں سمجھا کہ کنور صاحب کے فیصلہ کے خلاف مسلمانوں کے دلوں میں جوش کیوں ہے۔اگر وہ ایک مسلمان کی حیثیت میں اپنے آپ کو فرض کرتے جس طرح کہ مسٹر جسٹس دلال نے اپنے آپ کو فرض کیا تھا تو یقیناً وہ صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتے۔گو اس وقت تک مسلمان اس کو واضح الفاظ میں بیان نہ کر سکتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلہ میں ہر ایک مسلمان اپنی ہتک محسوس کرتا ہے۔وہ یہ نہیں خیال کرتا کہ اس فیصلہ سے رسول کریم ﷺ کی ہتک کی گئی ہے کیونکہ کنور صاحب نے صاف لکھا ہے کہ آپ کی نسبت ہتک آمیز الفاظ لکھنے والے کو سزاملنی چاہئے۔( گو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس فیصلہ سے آپ کی ہتک کا دروازہ کھل گیا ہے ) مگر وہ یہ ضرور خیال کرتا ہے کہ اس فیصلہ کا یہ مطلب ہے کہ ایک مسلمان کو یہ تو حق ہے کہ اگر اسے کوئی شخص گالی دے تو اس پر وہ ناراض ہو لیکن اسے اس شخص سے نفرت کرنے پر کا حق نہیں ہے جو رسول کریم ﷺ کو گالی دے۔اگر اس موقع پر منافرت پیدا ہوتی ہے تو یہ اس کی اشتعال انگیز طبیعت کا نتیجہ ہے اس کے فطرتی تقاضوں کا نتیجہ نہیں ہے۔مسلمان اور حب رسول میں اب ایک مسلمان کے نزدیک یہ خیال کہ اس کی اللہ علیہ نسبت یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر خود اسے گالی دی جائے تو اسے غصہ آ جانا چاہئے لیکن اگر محمد رسول اللہ ﷺ کو گالی دی جائے تو اس