سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 339

سيرة النبي علي 339 جلد 2 کے متعلق ایک ایسی بات لکھنے پر جو صرف تاویلا اس کی ہتک کہلا سکتی ہے آٹھ دن کے اندر اندر دو معزز شخص جیل خانہ میں بھیج دیئے جائیں یہ میں تفاوت رہ از کجاست تا به کجا !!۔قید ہونے والوں کی بہادری ہمارے بھائی آج جیل خانہ میں ہیں لیکن اپنے نفس کے لئے نہیں، اپنی عزت کے لئے نہیں، کسی دیوی غرض کے لئے نہیں ، اس وجہ سے نہیں کہ وہ حکومت کو کمزور کرنا چاہتے تھے نہ اس لئے کہ وہ کسی کے حق کو دبانا چاہتے تھے بلکہ صرف اس لئے کہ انہوں نے رسول کریم علیہ کی عزت کے لئے غیرت کا اظہار کیا۔ان کی یہ بہادرانہ روش ہمیشہ کے لئے یادگار رہے گی کہ دونوں نے سارا بوجھ اپنے ہی سر پر اٹھانے کی کوشش کی ہے اور دوسرے کی براءت کی کوشش کی ہے۔اس مصیبت کی آگ میں سے یہ ایک ایسی خوشبو اٹھی ہے کہ باوجود صدمہ زدہ ہونے کے دماغ معطر ہو رہا ہے۔گورنمنٹ کے جیل خانے بے وفاؤں اور غداروں کے لئے تیار کئے گئے تھے لیکن آج انہیں دو وفادار شخص جنہوں نے دو جہان کے سردار سے بھی وفاداری کی اور گورنمنٹ کی بھی وفاداری کی زینت دے رہے ہیں۔کیا مسلم آؤٹ لگ نے عدالت کی توہین کی محترم جان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان دونوں صاحبان نے یہ کہہ کر کہ یہ فیصلہ غیر معمولی ہے اور غیر معمولی حالات میں ہوا ہے اور اس کی تحقیق ہونی چاہئے عدالت عالیہ کی ہتک کی ہے۔مگر میرے نزدیک عدالت عالیہ کی یہ رائے درست نہیں۔یہ کہنا کہ جن حالات میں یہ فیصلہ ہوا ہے اس سے لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں اس لئے اس کی تحقیق کرنی چاہئے اور یہ کہنا کہ جج نے کوئی بددیانتی کی ہے اس میں بہت بڑا فرق ہے۔اور میں خیال کرتا ہوں کہ عدالت عالیہ پنجاب بیسیوں مقدمات میں اس فرق کو تسلیم کر چکی ہو گی۔کیا اس میں