سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 291
سيرة النبي الله 291 جلد 2 رسول کریم ﷺ کے قرب وصال کا ایک واقعہ وو حضرت مصلح موعود 2 اپریل 1926ء کے خطبہ جمعہ میں بیان فرماتے ہیں :۔رسول کریم ﷺ کے وصال کا وقت جب قریب آیا اور آپ نے بعض رؤیا کی بنا پر معلوم کر لیا کہ میری وفات قریب ہے تو آپ نے مجلس میں فرمایا میں چاہتا ہوں مجھ پر کسی کا حق نہ رہے اس لئے اگر کسی کو مجھ سے کوئی ایسی تکلیف پہنچی ہو جو نا جائز ہو تو آج مجھ سے اس کا بدلہ لے لے تا قیامت کے دن مجھ پر اس کا حق نہ رہے۔صحابہؓ نے مختلف کیفیات قلبی کے ماتحت اس بات کو مختلف رنگ میں سمجھا اور فائدہ اٹھایا۔کسی نے تو اس سے یہ سمجھا کہ اب آپ کی وفات کا وقت قریب ہے، کسی نے سمجھا کیا اعلیٰ بات فرمائی ہے۔کسی نے سمجھا کیا اعلیٰ سبق دیا ہے دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا۔غرض ہر ایک نے اپنے اپنے رنگ میں فائدہ اٹھایا کہ اسی دوران میں ایک صحابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ایک دفعہ مجھے آپ سے تکلیف پہنچی تھی میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔یہ سن کر صحابہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا ہو گا۔انہوں نے خیال کیا ہوگا اس نے کیسی بیہودہ بات کہی ہے اور رسول کریم علی کی کس قدر گستاخی کی ہے۔کئی اس پر دانت پیستے ہوں گے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے وقت ہی اسے اپنا بدلہ لینے کا خیال آیا اور اس کا اس نے مطالبہ کر دیا۔رسول کریم علیہ نے فرمایا اچھا بتاؤ کیا بات ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! ایک دفعہ آپ جنگ کے موقع پر صف بندی فرما رہے تھے تو آپ کی کہنی میری پیٹھ پر لگی تھی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوتم بھی مارلو۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! اُس وقت میرا بدن ننگا تھا مگر آپ کے جسم پر کپڑا ہے۔آپ نے