سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 286

سيرة النبي عمال 286 جلد 2 ناشکری کا بیج بڑھتا بڑھتا ان کو منافق بنا گیا۔اگر مدینہ کے تمام لوگ آپ کی قدر کرتے تو یہ منافق بھی نہ پیدا ہوتے۔مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ آنحضرت کی شکر گزاری کرتے اور جان و مال کو قربان کر دیتے الٹا طعن کرنے شروع کر یئے۔طعن کی زبان ناشکری سے ہی کھلتی ہے۔انسان طبعی طور پر جن کا شکر گزار ہوتا ہے ان کو کبھی طعن نہیں کرتا۔وہ مرد جو بیوی کا شکر گزار ہو کبھی نہیں دیکھو گے کہ وہ طعن کرتا ہو یا بیوی کی شکایت کرتا ہو۔اسی طرح وہ بیوی جو خاوند کی احسان مند ہو کبھی اسے طعن نہیں کرتی اور کبھی کسی سے اس کا گلہ نہیں کرتی۔ایسا ہی ایک بیٹا اگر باپ کا احسان مند ہے اور اس کے احسانوں کی قدر کرتا ہے اور ان کے لئے اس کا شکر گزار ہے تو وہ کبھی کسی کے پاس اپنے باپ کا شکوہ نہیں کرے گا۔یہی حال روحانی امور کا ہے کہ اگر شکر گزاری ہو تو کوئی شخص زبانِ طعن نہیں کھولتا۔آنحضرت ﷺ کے احسانوں کی قدر اگر انہیں ہوتی تو مدینہ کے بعض لوگوں میں ناشکری نہ پیدا ہوتی اور وہ منافق نہ بنتے۔پس رسول اللہ ﷺ کے احسانوں کو یاد کرتے ہوئے خدا سے کہنا چاہئے کہ ہم تو ان کا کچھ بدلہ نہیں دے سکتے تو ہی ان کا عوض رسول کریم ﷺ کو دے اور اس کا اجر آپ کو عطا فرما۔یہی درود کا مطلب ہے۔پس چاہئے کہ اس کی کثرت اختیار کی جائے اور اس کے ذریعہ اپنی احسان مندی کو بہترین صورت میں ظاہر کیا جائے۔میں نے بتایا ہے کہ درود رسول کریم علیہ کے احسانوں کو یاد کرنا اور اپنی احسان صلى الله مندی جتانا اور خدا سے اس کا عوض دینے کی درخواست کرنا ہے۔آنحضرت ﷺ کے بعد ہم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھی بے شمار احسانات ہیں اس لئے درود میں ان کو بھی شامل کرنا چاہئے۔ایک یہی کیا کم احسان حضرت مسیح موعود کا ہم پر ہے کہ آپ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کا پتہ ہم کو ملا۔آج لوگوں نے جھوٹی اور بناوٹی