سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 285

سيرة النبي الله 285 جلد 2 رسول کریم ﷺ پر درود پڑھنے کی حکمت و اہمیت وو حضرت مصلح موعود 4 دسمبر 1925ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔درود دراصل اُس احسان کا اقرار ہے جو آنحضرت ﷺ نے ہم پر کیا اور احسان کا اقرار انسان کے لئے ازحد ضروری ہے۔کبھی کسی شخص کے اعمال میں پاکیزگی نہیں پیدا ہوسکتی جب تک وہ اپنے احسان کرنے والے کا احسان مند نہیں ہوتا کیونکہ تمام صفائی اعمال میں احسان مندی سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اس لئے ہمارے الله لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم کثرت سے درود پڑھیں تا کہ ہم آنحضرت ﷺ کے احسانوں کے لئے آپ کے احسان مند ہوں اور پھر ہمارے اعمال میں بھی پاکیزگی اور صفائی پیدا ہو۔جو شخص کسی کے احسانوں کے لئے اپنے محسن کا احسان مند نہیں ہوتا وہ فتنہ وفساد کا بیج بوتا ہے کیونکہ نا احسان مندی اور ناشکر گزاری ہمیشہ فساد و جھگڑے پیدا کرتی ہے۔غور کر کے دیکھ لو جتنی لڑائیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں وہ نا احسان مندی سے ہی ہوتے ہیں۔پس ہمیں احسان فراموش نہیں بننا چاہئے۔آنحضرت ﷺ کے بے شمار احسان ہم پر ہیں ہمیں ان کو یاد رکھنا چاہئے اور ان کا اقرار کرتے رہنا چاہئے۔آنحضرت ﷺ جب مدینہ تشریف لے گئے تو مدینہ کے بعض لوگوں نے اس سے برا منایا۔حالانکہ آپ کے بہت سے احسان ان پر تھے مگر ان لوگوں نے ناشکری کی اور طعن وغیرہ کرنے شروع کر دیئے۔اگر چہ بعض ان میں دبی زبان سے کرتے تھے مگر ایسے لوگوں نے آپ کے احسانوں کی ناشکری ضرور کی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ