سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 269
سيرة النبي الله 269 جلد 2 جنگ بدر میں رسول کریم علیہ کا ایک معجزہ اوائل جولائی 1925 ء میں حضرت مصلح موعود نے ایک تقریر فرمائی جو مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کو نصیحت“ کے عنوان سے شائع شدہ ہے۔اس خطاب میں آنحضرت ﷺ کا ایک معجزہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔خدائی تیر اور اس کی کیفیت وہ ایک خدائی تیر ہوتا ہے جو کبھی خطا نہیں جاتا بلکہ دلوں کے اندر گھس جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے چلائے ہوئے تیر کبھی خطا نہیں جاتے۔دیکھو موت بھی خدا کے تیروں میں سے ایک تیر ہے اِنَّ الْمَنَايَا لَا تَطِيشُ سِهَا مُهَا 1۔یہی وجہ ہے کہ جس وقت موت آتی ہے تو کوئی روک نہیں سکتا۔بدر کی جنگ میں بھی خدا نے اپنا تیر چلایا تھا جبکہ صحابہ کی مٹھی بھر جماعت نے کفار کے بڑے لشکر کو سخت ہزیمت دے دی تھی۔اُس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریت کی مٹھی پھینکی تھی جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے وہ تو نے نہیں پھینکی بلکہ ہم نے پھینکی ہے 2۔پھر خدا کے پھینکنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹی پھینکی اور اُدھر زور سے آندھی چلی جس سے ریت اور کنکر اُڑ اُڑ کر کفار کی آنکھوں میں پڑنے شروع ہو گئے کیونکہ جدھر سے آندھی آئی کفار کا اُس طرف منہ تھا اور صحابہ کی اس طرف پشت تھی۔پھر ہوا کا رخ مطابق ہونے کی وجہ سے صحابہ کا نشانہ بھی خوب لگتا تھا اور ان کے تیروں میں زیادہ تیزی اور طاقت بھی پیدا ہو گئی۔اس کے مقابلہ میں کفار کا مخالف ہوا کی وجہ سے نشانہ خطا جاتا تھا کیونکہ آندھی نے ان کی آنکھوں کو اس قابل نہ چھوڑا تھا کہ وہ نشانہ لگا سکتے ، نتیجہ یہ ہوا