سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 268

سيرة النبي عالم 268 جلد 2 کفار کی ہدایت کے لئے رسول کریم ﷺ کی تڑپ 25 اپریل 1925ء کو قادیان میں خطبہ عید الفطر میں حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔پس کامیابیوں اور فتوحات کے ساتھ جو غم اور تکالیف ہوتی ہیں ان میں بھی لذت ہوتی ہے۔اور وہ قوم جو خدا کی ہو جاتی ہے وہ بھی غموں میں مبتلا ہوتی ہے بلکہ دوسروں سے بہت زیادہ مبتلا ہوتی ہے کیونکہ اس کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوتی ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اسے بہت بڑی خوشی اور فرحت بھی ہوتی ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ کے متعلق فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ 1 تجھے دنیا کے کفر پر اتناغم ہے کہ قریب ہے تو اس غم سے ہلاک ہو جائے۔گویا خدا تعالیٰ غم کو چھری تصور کر کے فرماتا ہے کہ وہ کاٹتے کاٹتے گردن کے پچھلے چھڑے تک چلی گئی ہے۔لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ کو ساری دنیا کی بادشاہت دے کر کہا جاتا کہ آپ اس غم کو جانے دیں تو آپ اسے تسلیم کر لیتے ؟ ہرگز نہیں۔اگر ایسا ہوتا تو اس سے رسول کریم کو سخت غصہ آتا۔1: الشعراء: 4 ( الفضل 5 مئی 1925ء)