سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 245

سيرة النبي ع 245 جلد 2 نے دوسرے فریق کا بھی بیان سننا پسند کیا اور مسلمان دربارِ شاہی میں بلائے گئے۔واقعہ نہایت ہی درد ناک ہے۔ہم قوموں کے ظلموں سے تنگ آ کر اپنے وطن کو خیر باد کہنے والے مسلمان ابی سینیا کے بادشاہوں کے دربار میں اس خیال سے پیش ہوتے ہیں کہ اب شاید ہم کو ہمارے وطن کو واپس کرایا جائے گا اور ظالم اہل مکہ اور بھی زیادہ ظلم ہم پر کریں گے۔جب وہ بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے پوچھا کہ تم میرے ملک میں کیوں آئے ہو؟ مسلمانوں نے جواب دیا کہ اے بادشاہ! ہم پہلے جاہل تھے اور ہمیں نیکی اور بدی کا کوئی علم نہ تھا، بتوں کو پوجتے تھے اور خدا تعالیٰ کی توحید سے ناواقف تھے۔ہر اک قسم کے برے کام کرتے تھے، ظلم، ڈاکہ قتل، بدکاری ہمارے نزدیک معیوب نہ تھے۔اب اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مبعوث کیا، اس نے ہمیں ایک خدا کی پرستش سکھائی اور بدیوں سے ہمیں روکا، انصاف اور عدل کا حکم دیا، محبت کی تعلیم دی اور تقویٰ کا راستہ بتایا تب وہ لوگ جو ہمارے بھائی بند ہیں انہوں نے ہم پر ظلم کرنا شروع کیا اور ہم کو طرح طرح کے دکھ دینے شروع کئے ہم آخر تنگ آ کر اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور تیرے ملک میں آئے ہیں۔اب یہ لوگ ہمیں واپس لے جانے کے لئے یہاں بھی آگئے ہیں ہمارا قصور اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہم اپنے خدا کے پرستار ہیں۔شاہِ حبشہ کا واپس کرنے سے اس تقریر کا بادشاہ پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے مسلمانوں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا۔مکہ انکار اور صحابہ کی مدد کرنا کے وفد نے درباریوں سے ساز باز کر کے پھر دوسرے دن بادشاہ کے سامنے وہی سوال پیش کیا اور کہا کہ یہ حضرت مسیح کو گالیاں دیتے تھے۔بادشاہ نے پھر دوبارہ مسلمانوں کو بلایا۔انہوں نے جو اسلام کی تعلیم مسیح کے متعلق ہے بیان کی کہ ہم ان کو خدا تعالیٰ کا پیارا اور نبی مانتے ہیں۔ہاں ہم انہیں کسی طرح بھی خدائی کے قابل نہیں جانتے کیونکہ ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ ایک ہے۔اس بات پر درباری جوش میں آگئے اور بادشاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کو سزا دے مگر بادشاہ