سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 239

سيرة النبي ع 239 جلد 2 قدر بڑے پیغام کو لے کر نہیں آیا جو تو لایا ہے کہ اس کی قوم نے اس پر ظلم نہ کیا ہو اور اس کو دکھ نہ دیا ہو 3 اس سلوک اور محبت کی وجہ سے جو آپ لوگوں سے کرتے تھے ، اس محبت کے سبب سے جو آپ کو ہر ایک آدمی کے ساتھ تھی اور اس خدمت کے ماتحت جو آپ اپنے شہر کے غرباء کی کرتے تھے یہ بات کہ شہر کے لوگ آپ کے دشمن ہو جائیں گے آپ کو عجیب معلوم ہوئی مگر مستقبل آپ کے لئے کچھ اور چھپائے ہوئے تھا۔توریت کی پیشگوئی پوری ہوئی اس واقعہ کے چندہی ماہ کے بعد آپ کو پھر وحی ہوئی۔اس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ سب لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلائیں اور بدی کو دنیا سے مٹائیں اور شرک دور کریں اور نیکی اور تقویٰ کو قائم کریں اور ظلم کو دور کریں۔اس وحی کے ساتھ آپ کو نبوت کے مقام پر کھڑا کیا گیا۔اور آپ کے ذریعہ سے استثناء باب 18 آیت 18 کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ میں تیرے بھائیوں میں تجھ سا ایک نبی بر پاکروں گا۔آپ بنوا سماعیل میں سے تھے جو بنی اسرائیل کے بھائی تھے اور آپ اسی طرح ایک نیا قانون لے کر آئے جس طرح کہ حضرت موسٹی ایک نیا قانون لے کر آئے تھے۔دعوی نبوت پر لگانے ، بیگانے ہو گئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کا عہدہ ملنا تھا کہ یکدم آپ کے لئے دنیا بدل گئی۔وہ لوگ جو پہلے محبت کرتے تھے نفرت کرنے لگے اور جو عزت کرتے تھے حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔جو تعریف کرتے تھے مذمت کرنے لگے اور جو لوگ پہلے آپ کو آرام پہنچاتے تھے تکلیف پہنچانے لگے۔مگر چار آدمی جن کو آپ سے بہت زیادہ تعلق کا موقع ملا تھا وہ آپ پر ایمان لائے یعنی خدیجہ آپ کی بیوی، علی آپ کے چازاد بھائی اور زیڈ آپ کے آزاد کردہ غلام اور ابوبکر آپ کے دوست۔اور ان سب کے ایمان کی دلیل اُس وقت یہی تھی کہ آپ جھوٹ نہیں بول سکتے۔ان چاروں میں سے حضرت ابوبکر کا ایمان لانا عجیب تر تھا۔جس وقت آپ کو وحی ہوئی کہ