سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 238
سيرة النبي الله 238 جلد 2 نہ ہو۔حضرت خدیجہ نے جو آپ کی ایک ایک حرکت کا غور سے مطالعہ کرتی تھی اس بات کوسن کر جواب دیا کہ نہیں! ہر گز نہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ اس طرح آپ کو ابتلا میں ڈالے۔حالانکہ آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں اور جو لوگ کام نہیں کر سکتے ان کی مدد کرتے ہیں اور آپ سے وہ اخلاق ظاہر ہوتے ہیں جو دنیا میں اور کسی سے ظاہر نہیں ہوتے اور آپ مہمانوں کی خوب خاطر و مدارات کرتے ہیں اور جو لوگ مصائب میں مبتلا ہیں ان کی مدد کرتے ہیں 2۔یہ اُس عورت کی رائے ہے جو آپ کی پہلی بیوی تھی اور جو آپ کے تمام اعمال سے واقف تھی اور اُس سے زیادہ سچا گواہ اور کون ہوسکتا ہے کیونکہ انسان کی حقیقت ہمیشہ تجربہ سے معلوم ہوتی ہے اور تجربہ جس قدر بیوی کو خاوند کے حالات کا ہوتا ہے دوسرے کو نہیں ہو سکتا۔مگر آپ کی تکلیف اس تسلی سے دور نہ ہوئی اور حضرت خدیجہ نے یہ تجویز کی کہ آپ میرے بھائی جو بائبل کے عالم میں سے ملیں اور ان سے پوچھیں کہ اس قسم کی وحی کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ورقہ بن نوفل یہودی کا تصدیق کرنا چنانچہ آپ وہاں تشریف لے گئے اور ورقہ بن نوفل سے جو حضرت خدیجہ کے رشتہ میں بھائی تھے جا کر پہلے ان کو سب حال سنایا۔انہوں نے سن کر کہا کہ گھبرائیں نہیں تمہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی جس طرح کہ موسی کو ہوا کرتی تھی اور پھر کہا کہ افسوس کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں کاش! کہ میں اُس وقت جوان ہوتا جب خدا تعالیٰ تجھے دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کرے گا اور تیری قوم تجھے شہر سے نکال دے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو رات دن دنیا کی بہتری کی فکر میں لگے ہوئے تھے اور سب اہل شہر ان سے خوش تھے اس امر کو سن کر حیران ہوئے اور حیرت سے دریافت فرمایا کہ کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ ورقہ نے کہا ہاں ! کبھی کوئی شخص اس