سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 219
سيرة النبي عل الله 219 جلد 2 اسراف کی عادت پیدا کر کے۔مسلم شہری کا ایک یہ بھی فرض ہے کہ وہ قومی اور ملکی فرائض کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار رہے اور اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتا ہی نہ کرے۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ 17 - جو شخص اپنے مال کی حفاظت کے لئے مارا جاتا ہے وہ خدا کے حضور میں مقبول ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ تم لوگ کیوں لڑنے سے انکار کرتے ہو حالانکہ تمہارے بھائی اور بہنیں دوسرے لوگوں کے ظلم کے نیچے دبے ہوئے ہیں 18۔مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ کسی کو ہلاک ہوتا دیکھے تو اس کو بچائے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو کہا گیا ہے کہ اس پر سخت عذاب اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی نازل ہو گی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی کو قتل ہوتا ہوا دیکھتا ہے اور خاموش کھڑا رہتا ہے اور اس کے بچانے کے لئے کوشش نہیں کرتا وہ خدا کی لعنت کے نیچے ہے۔پس ڈوبتوں کو بچانا، آگوں کو بجھانا، زلزلوں، کانوں کے پھٹنے، مکانوں کے گرنے ، ریلیوں کے ٹکرانے اور بجلیوں کے گرنے کے وقت لوگوں کی مدد کرنی اور ہر ایک مصیبت میں جس میں اس کی مدد لوگوں کی جان بچا سکتی ہے ان کی جان کو بچانا ایک مسلم کا فرض ہے ورنہ وہ خدا کے حضور میں جوابدہ ہوگا اور وہ خدا کے فضل کو کبھی حاصل نہیں کرے گا۔اسی طرح ایک مسلم شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے بھائی کی طرف ہنسی کے ساتھ بھی ہتھیار کا منہ نہ کرے 19۔یہ حکم رسول کریم ﷺ نے لوہے کے ہتھیاروں کے متعلق دیا ہے۔پس بارود سے چلنے والے ہتھیاروں کے متعلق تو اور بھی سختی سے یہ حکم چسپاں ہوتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس حکم پر عمل نہ کرنے کے سبب سے سینکڑوں آدمیوں کی محض غلطی سے جانیں جاتی رہتی ہیں۔پھر مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ کبھی ہمت نہ ہارے اور مایوس نہ ہو بلکہ مصائب