سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 216
سيرة النبي عل الله 216 جلد 2 اسی طرح مسلم شہریوں کا فرض ہے کہ ایسی باتیں جو وقار کے خلاف ہوں اور لوگوں کو تکلیف دینے والی ہوں نہ کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مسلمان بازاروں اور الله گلیوں میں وقار کے ساتھ چلتے ہیں 8۔رسول کریم ﷺ نے کسی شخص کو دیکھا کہ ایک جوتی پہنے ہوئے چل رہا ہے تو آپ نے اسے منع فرمایا اور فرمایا کہ یا آدمی دونوں جوتیاں پہنے یا ایک بھی نہ پہنے۔مسلم شہریوں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ راستوں یا لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں میں کوئی غلاظت نہ پھینکیں اور ان کو گندہ نہ کریں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس شخص پر خدا کی ناراضگی نازل ہوتی ہے جو الله راستوں میں پاخانہ کرتا ہے یا درختوں کے نیچے جہاں لوگ آکر بیٹھتے ہیں 10۔اسی طرح مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ راستوں اور پبلک جگہوں کو صاف رکھنے کی کوشش کرے اور جس قدر مردان کے صاف کرنے میں دے سکتا ہے دے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں جو شخص راستہ میں سے لوگوں کو ایذا دینے والی چیزیں ہٹاتا ہے اس پر خدا کا فضل نازل ہوتا ہے 11۔مسلم شہری کا ایک یہ بھی فرض ہے کہ اگر وہ چیزیں فروخت کرے تو ضرر رساں چیزوں کو فروخت نہ کرے۔مثلاً سڑی ہوئی یا موسم کے لحاظ سے بیماریاں پیدا کرنے والی چیزوں کو۔اس کے لئے یہ کہنا کافی نہیں کہ لوگ جان کر اور سوچ سمجھ کر ان چیزوں کو لیتے ہیں بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ خود لوگوں کی صحت کا خیال رکھے اور ایسی چیزوں کو فروخت ہی نہ کرے۔مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ پبلک جگہوں پر بلند آواز سے نہ لڑے اور جھگڑے نہیں اور لوگوں کے امن اور آرام میں خلل نہ ڈالے اور اس کا یہ بھی فرض ہے کہ ایسی جگہیں کہ جن کو لوگ استعمال کرتے ہیں ان کو گندہ نہ کرے۔مثلاً کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے یا اور کوئی غلاظت ان میں نہ پھینکے اور اس کا یہ بھی فرض ہے کہ گندہ کلام منہ پر نہ لائے اور نہ پبلک جگہوں پر کوئی ایسا فعل کرے جولوگوں کو ایذا دیتا