سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 215
سيرة النبي عالم 215 جلد 2 قومی جرمانہ آپڑا ہو۔یعنی کسی شخص نے کوئی خون وغیرہ کر دیا ہو اور قوم پر تاوان پڑ گیا ہو تو وہ لوگ سوال کر سکتے ہیں۔ایک فرض مسلم شہری کا یہ ہے کہ جو شخص اس کے سامنے سے آئے اسے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہے 4۔جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلامتی ہو۔گویا ہر وقت تعلقات فِی مَا بَین کی درستی کی کوشش کرتا رہے۔پھر جو شخص آتا ہوا ملے اور وہ واقف اور دوست ہو تو مسلم شہری کا فرض یہ ہے کہ اس سے مصافحہ کرے5۔اسی طرح مسلم شہریوں کے یہ فرائض مقرر کئے گئے ہیں کہ جو لوگ اپنے محلہ کے یا دوسرے واقفوں میں سے بیمار ہوں ان کی عیادت کے لئے جائیں اور ان کی تسلی اور تشفی کریں۔گھر میں گھسیں تو پہلے اجازت لے لیں۔پہلے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہیں۔اگر گھر میں کوئی ہو اور جواب دے کہ اس وقت نہیں مل سکتا تو بلا ملال کے واپس چلے جائیں۔اگر کوئی نہ ہو تو بھی واپس چلے جائیں 6۔اگر ان کے سامنے کوئی شخص کوئی ایسی بات کہہ دے جو کسی دوسرے شخص کے خلاف ہو تو اس کو دبا دیں اور اس شخص تک نہ پہنچائیں جس کو کہی گئی ہے ورنہ رسول کریم علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سمجھا جائے گا کہ وہ بات اسی نے کہی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ کہنے والے کی مثال تو ایسی تھی کہ اس نے تیر مارا اور لگا نہیں اور جس نے اس کو وہ پہنچا دی جس کے حق میں کہی گئی تھی اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس نے تیراٹھا کر اس شخص کے سینے میں چھو دیا۔اسی طرح مسلم شہریوں کا یہ فرض ہے کہ جو شخص فوت ہو جائے اس کے جنازے کی تیاری میں مدد دیں اور قبر تک لے جائیں اور دفنائیں۔۔لیکن سب کے جانے کی ضرورت نہیں اگر بقدر ضرورت آدمی چلے جائیں تو یہ کافی ہوگا۔لیکن اگر کوئی بھی نہ جائے تو سب گنہگار ہوں گے۔اس فرض کی ادائیگی کا مسلمان اس قدر خیال رکھتے تھے کہ صحابہ کے زمانہ کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مذاہب کے لوگوں تک کے جنازوں کے ساتھ مسلمان جاتے تھے۔صلى الله