سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 198

سيرة النبي الله 198 جلد 2 غیر مسلموں سے برتاؤ کے بارہ میں رسول کریم ﷺ کی تعلیم رسول علیل 14 نومبر 1923ء کو حضرت مصلح موعود نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک بہت بڑے مجمع میں بریڈ لاء ہال لاہور میں تقریر فرمائی جو پیغام صلح کے عنوان سے شائع شدہ ہے۔اس لیکچر میں آپ نے اسلام اور بانی اسلام کی تعلیم اور آپ کے نمونہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔شرک جس کو اسلام نے بدترین گناہ قرار دیا ہے اس کے ہوتے ہوئے بھی کہا ہے کہ اگر تیرے ماں باپ مشرک ہوں تو بھی ان سے تعلق منقطع نہ کر بلکہ ان سے حسن سلوک کر اور اچھے تعلقات رکھ۔یہ تو قرآن کریم کا حکم ہے۔اب ہم رسول کریم ﷺ کے متعلق دیکھتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت ابو بکر کی لڑکی کے پاس جو رسول کریم ﷺ کی بیوی کی بہن تھیں ان کی والدہ آئی تو انہوں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ میری ماں آئی ہے اور چاہتی ہے کہ میں اس سے کچھ سلوک کروں مگر وہ کافر ہے کیا میں اس سے سلوک کرسکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں کر یہ دنیاوی معاملہ ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے 1۔پھر حضرت عمرؓ جیسے انسان جن کے متعلق مسلمان بھی سمجھتے ہیں کہ خشونت والے تھے اور اپنی پہلی حالت میں تلوار لے کر رسول کریم ﷺ کو قتل کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے ان کے متعلق آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان کو ایک جبہ دیا جو