سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 192
سيرة النبي الله 192 جلد 2 رسول کریم میں اور آپ کے ساتھیوں کی معجزانہ ترقی حضرت مصلح موعود نے 27 جولائی 1923 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خدا تعالیٰ کے حضور جو درجہ حاصل تھا اور آپ کو جو قرب الہی میسر تھا اس کے باعث دنیا کے سارے ہی وجودوں سے آپ بڑے تھے۔لیکن اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبوت سے پہلے کوئی خصوصیت حاصل نہ تھی۔آپ کا جو بھی درجہ تھا وہ آپ کو خدا کے حضور حاصل تھا۔ور نہ اپنے شہر میں نہ آپ کے پاس دولت تھی ، نہ مال تھا، نہ اسباب تھا ، نہ جتھا تھا، نہ طاقت تھی حتی کہ جب آپ نے نکاح کیا تو معمولی گزارہ کے لئے بھی آپ کے پاس مال نہ تھا بلکہ اپنی بیوی جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف حاصل ہوا اور سب سے پہلے ایمان لانے کا درجہ نصیب ہوا اس نے اپنا سارا مال آپ کے سپر د کر دیا۔ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود محنت کر کے گزارہ کرتے تھے۔حضرت خدیجہ جن سے آپ کی شادی ہوئی آپ کا مال لے کر آپ تجارت کے لئے گئے 1۔اور اس کے نفع سے گزارہ کرتے تھے۔نہ آپ زمیندار تھے۔اور زمینداری تو مکہ میں ہوتی ہی نہیں۔نہ آپ کے پاس گھوڑے یا اونٹوں کے گلے تھے۔بے شک آپ کو لوگ صادق کہتے تھے 2 مگر صادق کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے پاس مال بھی تھا۔بے شک آپ کو لوگ امین کہتے تھے 3۔مگر اس کے معنے تو یہ ہیں کہ آپ