سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 6
سيرة النبي عل الله 6 جلد 2 تک شراب نہ پی لیں۔ان سے شراب نوشی چھڑائی اور کس طرح چھڑائی کہ دنیا اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتی۔لکھا ہے کہ شراب کی حرمت کا جس دن حکم نازل ہوا ہے رسول کریم ﷺ کی طرف سے ایک شخص مدینہ کی گلیوں میں منادی کرتا پھرتا تھا کہ آج شراب حرام ہوگئی۔اُس وقت ایک جگہ ایک مجمع بیٹھا شراب پی رہا تھا۔جونہی کہ منادی کی آواز ان کے کان میں پہنچی ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ پوچھو تو یہ کیا کہتا ہے۔دوسرے نے کہا کہ میں یہ بات گوارا نہیں کرتا کہ اتنی دیر بھی لگاؤں کہ جاؤں اور جا کر اس سے پوچھوں۔جب وہ کہتا ہے کہ شراب حرام ہو گئی تو تحقیق بعد میں کروں گا پہلے ان قدحوں اور مٹکوں کو توڑ دوں۔چنانچہ اس نے ان تمام گھڑوں کو توڑ پھوڑ دیا۔اب سوچنا چاہئے کہ اول تو شراب ان لوگوں کی ایسی محبوب و مطلوب کہ وہ آنکھ نہیں کھولنا چاہتے جب تک اسے پی نہ لیں ، ایسی محبوب چیز کو ان سے چھڑایا جاتا ہے۔پھر ایک شراب نوش جس وقت کہ وہ شراب نوشی میں مشغول ہو اس سے یہ خواہش کرنا کہ شراب چھوڑ دو سخت مشکل ہے اور میں نہیں جانتا کہ کوئی شرابی جبکہ شراب میں مشغول ہو اُس وقت اسے کہا جائے کہ شراب چھوڑ دو تو وہ چھوڑ دے۔مگر محمد رسول اللہ علیہ ایسے لوگوں میں جو شراب کے پروانے ہیں ایسی روح پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے منہ سے حرمت شراب کا حکم سن کر نہیں ، ایک رستہ چلتے کی زبان سے سن کر کہ آج آنحضرت ﷺ نے شراب حرام کر دی تمام شراب کے برتن توڑ پھوڑ دیتا ہے۔کیا یہ ایک معجزہ نہیں؟ میں کہتا ہوں وہ پہلا شخص جس نے کہا تھا کہ دریافت کر لو اس کی یہ حالت ہونا بھی آنحضرت ﷺ کا معجزہ ہے کیونکہ شراب کی حالت میں اتنے ہوش کہاں ہوتے ہیں کہ کوئی تحقیق کرے۔اس کے مقابلہ میں آج ہم یورپ اور امریکہ کی حالت کو دیکھتے ہیں کہ ان کے ڈاکٹر اور اہل علم شیخ رہے ہیں کہ شراب بری چیز ہے اور اس کا استعمال اسی حد تک چاہئے جہاں تک طاقت قائم رکھ سکے مگر لوگ