سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 178

سيرة النبي الله 178 جلد 2 رسول کریم علیہ کا اپنی بیوی سے مشورہ کرنا حضرت مصلح موعود نے 27 دسمبر 1922ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر مستورات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔صلى الله ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے رویا میں دیکھا کہ آپ عمرہ کر رہے ہیں۔آپ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید اسی سال عمرہ کرنا ہے۔چونکہ مکہ والے ستاتے تھے اور مدینے والے جانہیں سکتے تھے یہ رویا سن کر کئی ہزار آدمی آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہو گئے۔کئی ہزار کے مجمع کو ساتھ لے کر رسول کریم عمل ہے جب مکے کے پاس پہنچے تو مکے والوں نے کہا کہ ہم ہرگز نہیں جانے دیں گے۔لوگ کہیں گے کہ محمد (رسول اللہ ) کئی ہزار کے مجمع کو لے کر گئے تو سکے والے ڈر گئے ہماری تو ناک کٹ جائے گی۔کئی تدبیریں کی گئیں اور فیصلہ کی یہ صورت ہوئی کہ دونوں طرفوں کے بڑے بڑے سردار اکٹھے ہو کر فیصلہ کریں۔آخر فیصلہ کرنے سے یہ بات قرار پائی کہ مدینہ والے اس سال چلے جاویں اور اگلے سال آدیں۔اس فیصلہ سے صحابہ کرام بہت رنجیدہ صلى الله ہوئے کہ رسول کریم علیہ نے کفار کی یہ شرط کیوں مان لی۔پھر رسول کریم علی نے فرمایا کہ قربانی کے لئے جو کچھ لائے ہو یہیں پر قربانی کر دو۔مگر کوئی نہ اٹھا حتی که رسول کریم ﷺ نے تین دفعہ کہا مگر پھر بھی سب بیٹھے رہے۔یہ حال دیکھ کر رسول کریم ﷺ کو بہت فکر ہوا کہ کہیں اس واقعہ سے لوگوں پر ابتلا نہ آ جاوے۔آخر آپ اٹھ کر گھر گئے اور اپنی ایک بیوی سے پوچھا کہ کیا کیا جاوے؟ یہ آج پہلی دفعہ ہے کہ میں بات کہوں اور لوگ نہ کریں۔آپ کی بیوی نے کہا کہ آپ اب ان