سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 164
سيرة النبي علي لٹکوا دیا۔164 جلد 2 ہم حیران ہیں کہ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ ایک طرف تو آنحضرت ﷺ سے محبت کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ کی عزت پر حملہ کرتے ہیں۔اور اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ جو لوگ آپ کی محبت سے مجبور ہو کر آپ پر کسی کو فضیلت دینے سے انکار کر دیتے ہیں ان کو دکھ دیتے ہیں، ان کے اس فعل کو کفر قرار دیتے ہیں۔کیا کفر محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کے قائم کرنے کا نام ہے؟ کیا بے دینی آپ کے حقیقی درجے کے اقرار کا نام ہے؟ کیا ارتداد آپ سے محبت کو کہتے ہیں؟ اگر یہی کفر ہے، اگر یہی بے دینی ہے، اگر یہی ارتداد ہے تو خدا کی قسم ! ہم اس کفر کو لوگوں کے ایمان سے اور اس بے دینی کو لوگوں کی دینداری سے اور اس ارتداد کولوگوں کے ثبات سے ہزار درجہ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور اپنے آقا اور سردار حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہمنوا ہو کر بلا خوف ملامت اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ بعد از خدا بعشق محمد مخمر م گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم 1 سب کو آخر ایک دن مرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونا ہے اور اسی کے ساتھ معاملہ پڑنا ہے پھر ہم لوگوں سے کیوں ڈریں؟ لوگ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرتے ہیں اور اسی سے محبت کرتے ہیں اور اس کے بعد سب سے زیادہ محبت اور ادب ہمارے دل میں آنحضرت ﷺ کا ہے۔اگر دنیا کی ساری عزتیں اور دنیا کے سارے تعلقات اور دنیا کے تمام آرام آپ کے لئے ہمیں چھوڑنے پڑیں تو یہ ہمارے لیے آسان ہے مگر آپ کی ذات کی ہتک ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ہم دوسرے نبیوں کی ہتک نہیں کرتے مگر آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ اور آپ کے علم اور آپ کے عرفان اور آپ کے تعلق باللہ کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کبھی بھی نہیں مان سکتے کہ آپ کی نسبت کسی اور نبی سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیار تھا۔اگر ہم ایسا کریں تو ہم سے زیادہ قابل سزا اور کوئی نہیں ہو گا۔ہم آنکھیں رکھتے ہوئے اس بات کو کس طرح باور کر لیں