سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 121

سيرة النبي ع 121 جلد 2 گے۔پس یا رسول اللہ ! چلئے جدھر چلتے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔اور اسی خدا کی قسم جس نے آپ کو سچی تعلیم دے کر بھیجا ہے اگر آپ ہم کو اس سمندر کی طرف لے جاویں ( بحیرہ احمر کی طرف اشارہ ہے جو عرب کے ساحل پر ہے ) اور اس کے اندر داخل ہو جاویں تو ہم آپ کے ساتھ ہوں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہ رہے گا۔اور ہم اس بات کو نا پسند نہیں کرتے کہ آپ ہمیں لے کر کل ہی دشمنوں کا مقابلہ کریں۔ہم لڑائی میں صابر اور جنگ میں ثابت قدم ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ آپ جنگ میں ہم سے وہ بات دیکھیں گے جو آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے گی۔پس چلئے خدا تعالیٰ کی برکت کے ساتھ یا رسول اللہ۔رسول کریم ﷺ کے صحابہ اور حضرت اس جواب اور اس جواب صلى الله کا جو حضرت موسی کی قوم موسی کے ساتھیوں کے جواب میں فرق نے باوجود وعد ہ مدد کے دیا تھا مقابلہ کرو اور دیکھو کہ کیا ان دونوں جماعتوں سے زیادہ کوئی اور دو قومیں متفاوت الحالات معلوم ہوتی ہیں۔مگر اس جواب سے بھی زیادہ عجیب جواب وہ ہے جو مقداد بن عمرو نے دیا۔کیونکہ اس میں انہوں نے وہی الفاظ بتغیر مناسب دہرائے ہیں جو حضرت موسی کی قوم نے حضرت موسی کو دیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ وَاللَّهِ لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُواِسْرَائِيلَ لِمُوسى فَاذْهَبُ أنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قعِدُونَ - وَلَكِنْ اِذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَكُمَا مُقَاتِلُونَ؟ خدا کی قسم ! ہم تجھے وہ جواب نہیں دیں گے جو بنی اسرائیل نے موسی کو دیا تھا کہ جاتو اور تیرا رب جا کر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہمارا جواب تو یہ ہے کہ چلئے آپ اور آپ کا رب دشمن کا مقابلہ کریں ہم آپ کے ساتھ مل کر دشمنوں سے لڑیں گے۔صلى الله یہ فرق تو اصحاب موسٰی اور اصحاب آنحضرت عﷺ کا ہے۔خدا کے معاملہ میں بھی ہم یہی فرق دیکھتے ہیں۔حضرت موسی بغیر اس موعودہ زمین میں داخل ہونے کے