سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 120

سيرة النبي عالم 120 جلد 2 کو بچاتے ہیں آپ کو بھی بچائیں گے۔یعنی جس طرح اپنی جانیں دے کر ہم اپنی اولا د اور بیویوں کو قید اور قتل ہونے سے بچاتے ہیں آپ کو بھی بچائیں گے۔پس جب بدر کی جنگ ہوئی اور آپ نے ارادہ کیا کہ دشمن کو روکنے کے لئے ہم آگے نکل کر اس کا مقابلہ کریں تو لکھا ہے كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّفُ أَنْ لَا تَكُونَ الأَنْصَارُ تَرى عَلَيْهَا نَصْرَهُ إِلَّا مِمَّنْ دَهَمَهُ بالْمَدِينَةِ مِنْ عَدُوِّهِ وَ اَنَّ لَيْسَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُسِيُرَبِهِمْ إِلَى عَدُوٌّ مِّنْ بِلَادِهِمْ فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ سَعْدُ بنُ مَعَادٍ وَاللهِ لَكَأَنَّكَ تُرِيدُنَا يَارَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَجَلُ قَالَ فَقَدُ امَنَّا بِكَ وَصَدَّقْنَاكَ وَ شَهِدْنَا اَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ هُوَ الْحَقُّ وَ أَعْطَيْنَاكَ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَنَا وَ مَوَاثِيْقَنَا عَلَى السَّمْع وَ الطَّاعَةِ فَامُضِ يَارَسُولَ اللَّهِ لِمَا أَرَدْتَ فَنَحْنُ مَعَكَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوِ اسْتَعْرَضْتَ بِنَا هَذَا الْبَحْرَ فَخُضْتَهُ لَخُضُنَاهُ مَعَكَ مَا تَخَلَّفَ مِنَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَمَا نَكْرَهُ أَنْ تَلْقَى بِنَا عَدُوَّنَا غَدًا إِنَّا لَصُبُرٌ فِى الْحَرْبِ صُدُقَ فِي اللّقَاءِ لَعَلَّ اللَّهَ يُرِيكَ مِنَّا مَا تَقِرُّبِهِ عَيْنُكَ فَسِرُبنَا عَلَى بَرَكَةِ اللهِ 5 یعنی رسول کریم صلى الله ے خوف کرتے تھے کہ کہیں انصار یہ خیال نہ کرتے ہوں کہ ان پر رسول اللہ ﷺ کی مدد صرف اُسی وقت فرض ہے جب کوئی دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو اور یہ کہ ان پر رسول اللہ ﷺ کی نصرت کا حق نہیں جبکہ آپ ان کو ان کے علاقہ سے باہر کسی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے لے جانا چاہیں۔پس جب آپ نے کہا لوگو! تمہارا کیا مشورہ ہے؟ تو سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم تو آپ پر ایمان لا چکے ہیں اور آپ کی تصدیق کر چکے ہیں اور اس بات کی گواہی دے چکے ہیں کہ آپ جو کچھ لائے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اسی وجہ سے ہم نے آپ سے پختہ عہد اور اقرار کئے ہیں کہ ہم آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں صلى الله