سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 100
سيرة النبي ع 100 جلد 2 اس کی خدمت اور حفاظت کے لئے کوئی پاک انسان مبعوث کرتا نہ کہ الٹا اس کو پاؤں تلے روندنے کے لئے نعوذ باللہ ایک اور دجال کو بھیجتا۔حضرت مرزا صاحب کو لوگ نہ مانیں ، انہیں گالیاں دیں، انہیں بدتر سے بدتر ٹھہرائیں مگر اتنا تو سوچیں کہ خدا نے اسلام کے لئے کیا یہی کیا جبکہ اسلام ڈوب رہا تھا ایک اور ڈبونے والا بھیج دیا ؟ محبت کا تو تقاضا یہ تھا کہ خدا اس کی حفاظت کے سامان کرتا اور اسے دشمنوں سے بچاتا۔مهر مادری مشہور قصہ ہے مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حضور دو عورتیں جھگڑتی ہوئی آئیں۔ان میں سے ایک عورت کے بچے کو بھیڑیے نے کھا لیا۔وہ دوسری کے بچے کو اپنا بتلاتی تھی اور کہتی تھی کہ اس کا بچہ مارا گیا ہے۔اُس وقت معاملہ بہت ٹیڑھا تھا۔حضرت سلیمان نے کہا کہ چھری لاؤ میں ابھی فیصلہ کرتا ہوں۔بچے کو کاٹ کر آدھا ایک کو دے دیتا ہوں اور آدھا دوسری کو۔اُس وقت جس عورت کا بچہ تھا فوراً بے تاب ہو کر بول اٹھی کہ یہ بچہ میر انہیں اسی کا ہے، اسی کو دے دیا جائے مگر دوسری خاموش رہی۔حضرت سلیمان نے کہا کہ یہ بچہ اسی کا ہے جو کہتی ہے کہ میرا نہیں 2 کیونکہ اس کو اس سے ہمدردی پیدا ہوئی اور دوسری کو کچھ اثر نہ ہوا۔پس مسلمان رسول اللہ ﷺ کے بچے کہلاتے ہیں اور دین خدا کا ہے۔مگر لوگ اس پر غالب آرہے ہیں اور دمبدم اس پر پتھروں کی بوچھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ایسی حالت میں بجائے پتھروں سے بچانے کے خدا ایک اور پتھر پھینکنے والے کو بھیج دیتا ہے۔کیا یہ ممکن ہے؟ کیا یہ بات ہو سکتی ہے؟ اس خیال کے لوگوں سے تو ہندہ ابوسفیان کی بیوی ہی زیادہ سمجھدار رہی جب اور عورتوں کے ہمراہ وہ آنحضرت ﷺ کی بیعت کرنے لگی اور آنحضرت ﷺ نے شرک نہ کرنے کا اقرار کرایا تو وہ بے اختیار بول اٹھی کہ کیا ہم اب بھی شرک کریں گے حالانکہ ہم نے بتوں کی اس قدر مدد کی مگر ان سے کچھ نہ ہو سکا۔اور آپ اکیلے تھے مگر آپ نے خدا سے اس قدر نصرت پائی۔اگر یہ بت کچے ہوتے تو آپ کس طرح کامیاب ہو سکتے تھے۔