سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 96

سيرة النبي عمال 96 جلد 2 رومال میں ٹھوکتا ہے مگر ایک وقت تو تیری یہ حالت تھی کہ تجھ پر دنوں فاقے گزرتے تھے اور تو حضرت ابوبکر کے پاس جاتا تھا کہ وہ بڑے صدقہ کرنے والے تھے اور ان سے آیت صدقہ کے معنے پوچھتا تھا اور وہ بتاتے تھے۔حالانکہ معنے تجھ کو بھی آتے تھے۔پھر حضرت عمرؓ کے پاس جاتا اور وہ بھی کچھ نہ کھلاتے۔آخر حضرت نبی کریم علی کے پاس آتا اور آپ چہرہ سے ہی پہچان جاتے اور پوچھتے ابو ہریرہ ! بھوک لگی ہے؟ اور پھر آپ دودھ کا پیالہ منگواتے اور مجھ سے پہلے اور لوگوں کو پینے کو دیتے اور میں خیال کرتا کہ مستحق زیادہ میں تھا آخر مجھ کو ملتا اور میں سیر ہوتا 5۔اسی طرح کئی فاقے گزر جاتے اور لوگ مجھے مرگی زدہ خیال کر کے مارتے لیکن آج یہ حال ہے کہ گردن کش بادشاہوں کے خاص درباری رومالوں میں تو تھوکتا ہے۔یہ کامیابی ، یہ عروج ، یہ رفعت کوئی معمولی نہیں ہے۔فرانس کا ایک مصنف لکھتا ہے کہ میں حیران رہ جاتا ہوں جب میں یہ سوچتا ہوں کہ کھجور کے ایک ادنی درجہ کے چھپر کے نیچے چند آدمی بیٹھے ہیں جن کے جسم پر پورا کپڑا نہیں اور پیٹ بھی سیر نہیں۔وہ باتیں یہ کرتے ہیں کہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کو کرلیں گے اور وہ کر کے بھی دکھا دیتے ہیں۔پس یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ آنحضرت ﷺ جو مذہب لائے وہ حق ہے کیونکہ اس کے لئے جونشان رکھا گیا تھا وہ پورا ہو گیا۔“ الفضل و مئی 1921 ء ) 1: بخاری کتاب مناقب الانصار باب اسلام ابی ذر الغفاری صفحہ 648 حدیث نمبر 3861 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 2 السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 11 مطبوعہ بیروت 2012 الطبعة الاولى 3: السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 12 مطبوعہ بیروت 2012 الطبعة الاولى 4: ترمذی ابواب الزهد باب ماجاء في معيشة اصحاب النبي عل صفحہ 539 حدیث نمبر 2367 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الاولى