سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 95
سيرة النبي علي 95 جلد 2 جب میں نے پہلی دفعہ کدال ماری اور شعلہ نکلا تو مجھے دکھایا گیا کہ مجھے قیصر کے ملک پر فتح حاصل ہوئی اور دوسری دفعہ معلوم ہوا کہ کسریٰ کے ملک پر اور تیسری دفعہ حیرہ کے بادشاہوں کی حکومت زیروز بر ہوتی دکھائی گئی 2۔جب آپ نے یہ فرمایا تو منافقین اور مخالفین نے ہنسنا شروع کر دیا کہ یہ عجیب لوگ ہیں کہ پاخانہ پھرنے کی تو ان کو اجازت نہیں اور کہا یہ جارہا ہے کہ قیصر وکسری کی سلطنتیں ہمیں ملیں گی اور ہم ان پر قابض ہوں گے 3۔لیکن ان کی ہنسی جھوٹی ثابت ہوئی اور خدا کی بات پوری ہوئی اور اس سے ثابت ہو گیا کہ اسلام سچا ہے اور اس کی یہ دلیل ہے کہ یہ جن گھروں میں ہے وہ بلند کئے جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔خدا تعالیٰ نے سورۃ احزاب میں مسلمانوں کی حالت کا نقشہ یہ کھینچا ہے کہ زمین با وجود فراخی کے ان کے لئے تنگ ہو گئی تھی اور دنیا نے فیصلہ کر لیا تھا کہ مسلمان اب پس جائیں گے۔اُس وقت خدا ان کو بشارت دیتا ہے کہ تم مخالفین کو پیس دو گے اور دنیا کی حکومت تمہاری ہی ہوگی۔چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق کے عہدِ مبارک میں شام فتح ہوا۔یہ ترقی اور یہ شان اور ادنیٰ حالت سے بلندی پر قدم کا پہنچنا ثبوت ہے اس بات کا کہ اسلام سچا ہے۔کیونکہ خدا نے بتایا تھا کہ ایسا ہوگا اور ایسا ہی ہوا اور دشمن سے دشمن کو اقرار کرنا پڑا کہ ہاں اسلام نے ترقی کی اور اس کی ترقی کی اُس وقت پیشگوئی کی گئی تھی جبکہ مسلمانوں کو اپنے گھر میں بھی کوئی آرام سے نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔مگر پھر حکومت آئی اور غریبوں اور فقیروں کو خدا تعالیٰ نے حکومتیں دیں۔حضرت ابو ہریرہ کا واقعہ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ کا واقعہ ہے کہ جب وہ ایک علاقہ کے گورنر بنائے گئے اور ان کے پاس کسری کا ایک رومال تھا جب کھانسی آئی تو انہوں نے اس رومال سے منہ صاف کیا اور کہا بخ بخ ابو هريرة 4۔اس کے معنے ہیں واہ واہ ابو ہریرہ۔آج تو کسری کے