سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 84

سيرة النبي علي 84 جلد 1 صلى الله ایک اور مثال جس طرح مذکورہ بالا دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ ہر وقت موت کو یاد رکھتے تھے اسی طرح مذکورہ ذیل دعا بھی اس بات پر شاہد ہے کہ آپ اپنی زندگی کی ہر گھڑی کو آخری گھڑی جانتے تھے۔اور جب آپ سونے لگتے تو اپنے رب سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کر لیتے اور گویا ہر ایک تغیر کے لیے تیار ہو جاتے۔چنانچہ براء بن عازب کی روایت ہے کہ كَانَ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اوى إِلَى فِرَاشِهِ نَامَ عَلَى شِقِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجْهُتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِى إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ 29 فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر جا کر لیٹتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے۔پھر فرماتے اے میرے رب ! میں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں۔اپنی سب توجہ تیری ہی طرف پھیرتا ہوں۔میں اپنا معاملہ تیرے ہاتھوں میں دیتا ہوں۔اور اپنے آپ کو تیری پناہ میں دیتا ہوں۔تجھ سے نفع کا امیدوار ہوں۔تیری بڑائی اور استغنا سے خائف بھی ہوں، تیرے غضب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں اور نہ کوئی نجات کا مقام ہے مگر یہی کہ تجھ ہی سے نجات و پناہ طلب کی جائے۔میں اس کتاب پر جو تُو نے نازل کی ہے اور اس رسول پر جو تُو نے بھیجا ہے ایمان لاتا ہوں۔لوگ اپنی دکان کو بند کرتے وقت اُس کا حساب کر لیتے ہیں مگر خدا سے جو حساب ہے اسے صاف نہیں کرتے۔مگر کیسا برگزیدہ وہ انسان تھا جو صبح سے شام تک خدا کے فرائض کے ادا کرنے میں لگا رہتا اور خود ہی انہیں ادا نہ کرتا بلکہ ہزاروں کی نگرانی بھی ساتھ ہی کرتا تھا کہ وہ بھی اپنے فرائض کو ادا کرتے ہیں یا نہیں مگر رات کو سونے سے پہلے اپنی تمام کوششوں اور عبادتوں سے آنکھ بند کر کے عاجزانہ اپنے مولیٰ کے حضور میں اس طرح حساب صاف کرنے کے لیے کھڑا ہو جاتا کہ گویا اس نے کوئی خدمت