سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 83

سيرة النبي علي 83 جلد 1 جلال کو دیکھ کر بے اختیار اس کے حضور میں گر جاتے کہ انسان سے کمزوری ہو جانی ممکن ہے تو مجھ پر اپنا فضل ہی کر۔وہاں تو یہ حیثیت تھی اور یہاں یہ حال ہے کہ ہم لوگ ہزاروں قسم کے گناہ کر کے بھی استغفار و توبہ میں کوتاہی کرتے ہیں اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَآتُوبُ إِلَيْهِ۔موت کا خیال صلى الله آنحضرت یہ موت سے کسی وقت غافل نہ رہتے اور خشیت الہی آپ پر اس قدر غالب تھی کہ ہر روز یہ یقین کر کے سوتے کہ شاید آج ہی موت آجاوے اور آج ہی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا پڑے۔اس لیے آپ ایک ایسے مسافر کی طرح رہتے تھے جسے خیال ہوتا ہے کہ ریل اب چلی کہ چلی۔وہ کبھی اپنے آپ کو ایسے کام میں نہیں پھنسا تا کہ جسے چھوڑنا مشکل ہو۔آپ بھی ہر وقت اپنے محبوب کے پاس جانے کے لیے تیار رہتے اور جو دم گزرتا اسے اُس کے فضل کا نتیجہ سمجھتے اور موت کو یاد رکھتے۔حذیفہ بن الیمان فرماتے ہیں كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِهِ ثُمَّ يَقُوْلُ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوْتُ وَأَحْيَا وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُوْرُ 28 رسول کریم ﷺ کی عادت تھی کہ جب آپ اپنے بستر پر لیٹتے اپنے رخسار کے نیچے اپنا ہاتھ رکھتے اور فرماتے اے میرے مولا ! میرا مرنا اور جینا تیرے ہی نام پر ہو اور جب سو کر اٹھتے تو فرماتے شکر ہے میرے رب کا جس نے ہمیں زندہ کیا مارنے کے بعد۔اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر رات جب بستر پر جاتے تو اپنی طرف سے حساب ختم کر جاتے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتے کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو تب بھی تیرے ہی نام پر میری زندگی ہو۔اور جب اٹھتے تو خدا تعالیٰ کے احسان پر حمد کرتے کہ میں تو اپنی طرف سے دنیا سے علیحدہ ہو چکا تھا تیرا ہی فضل ہوا کہ تو نے پھر مجھے زندہ کیا اور میری عمر میں برکت دی۔